فیس بُک پر دوستی کا بھیانک انجام۔۔۔ تصویر میں نظر آنے والا لڑکا سعودی عرب سے اپنی لالچی محبوبہ سے ملنے کراچی پہنچا تو لڑکی نے کیا کَیا؟ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے

کراچی(قدرت روزنامہ) آج کل فیس بک، وٹس ایپ سمیت نوجوان نسل سوشل میڈیا پر کافی متحرک دکھائی دیتی ہے، نوجوان جوڑے اپنا جیون ساتھی چننے کے لیے سوشل میڈیا ایپس کا بے دریغی سے استعمال کر رہے ہیں جس کے نقصانات آئے روز دیکھنے کو مل رہے ہیں، ایسا ہی ایک دلکراش واقعہ پیش آیا کراچی میں جہاں سعودی عرب سے لوٹنے والے نوجوان کو اسکی محبوبہ نے قتل کے بعد لاش کو جلا ڈالا، تفصیلات کے مطابق گوجرنوالہ کے رہاشی نوجوان کوکراچی میں محبوبہ نے قتل کے بعدلاش کوکچراکنڈی میں جلاڈالا ،

یہ واقعہ پیش آیا تھا عید الفطر کے روز لیکن کئی ماہ گزرنے کے بعد اس پر اسرار قتل سے بھی پردہ اُٹھ ہی گیا ، کراچی کے علاقے کریم آبادمیں کچراکنڈی سے عید الفطر کے روز ایک جلی ہوئی لاش ملی، نوجوان کی شناخت ہوئی علی حمزہ کے نام سے ، علی حمزہ کومحبونہ نے عید الفطر سے تین روز قبل سعودی عرب سے کراچی بلایا ،لالچی محبوبہ شبانہ نے عیدالفطر کی چاندرات کونیند کی گولیاں کھلاکرعلی حمزہ کے گلے میں پھندالگاکرقتل کیا،قتل کی لرزہ خیزواردات میں متحدہ لندن کاکارندہ اور فلاحی ادارے کابانی بھی ملوث نکلا۔ لاش کوٹھکانے لگانے کے لیے قاتل محبوبہ کوایمبولینس فراہم کی گئی ،لاش عید الفطر کے پہلے روزپھینکی گئی ، لاش ایک روز تک کچرے کے ڈھیرمیں ہی پڑی رہی ،قاتل محبوبہ کوچین نہ آیا تو ساتھی ملزم خلیل کے ہمراہ دوبارہ کچراکنڈی پہنچی ،عید کے دوسرے روز ملزمہ شبانہ نے پیٹرول پمپ سے پیٹرول خریدا اور لاش کوآگ لگائی ،ملزمہ شبانہ ساتھی ملزم خلیل کے ہمراہ واردات کے بعدفرار ہوئی، واعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوئے متحرک اور شہر قائد میں چھاپوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا،

خفیہ اداروں کی اطلاع پر پتہ چلا کہ واقعے کے ذمہداران ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے نےڈیرہ اسماعیل خان پہنچے، ڈیرہ اسماعیل خان میں چھاپے کے بعدتفتیشی پولیس اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے ملیرجعفرطیارسوسائٹی میں چھاپہ مارا گیا ، اس چھاپے میں قاتل محبوبہ شبانہ ساتھی ملزم خلیل کے ہمراہ گرفتار ہوگئی، ْقتل کی واردات سے قبل لالچی محبوبہ نے عاشق کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں، لاش کی شناخت مقتول کے ایک دانت کی مددسے ہوئی ،لالچی محبوبہ شبانہ کاآبائی تعلق ڈیراہ اسماعیل خان سے ہے،ملزمہ کاساتھ دینے والے متحدہ لندن کے کارندے خلیل کے فلاحی ادارے کے دفترمیں کھدائی بھی گئی، مجرمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے تاہم ان سے تحقیقات کاسلسلہ جاری ہے۔

افواہوں کا ڈراپ سین۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری اسپتالوں کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا، پاکستانی خوشی سے جھوم اُٹھے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کا مقصد پبلک سیکٹرکے اسپتالوں میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات لانا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں سرکاری اسپتالوں کی نجکاری کے حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام اسپتال سرکاری ہی رہیں گے اوریہ آرڈیننس ہمارے اسپتالوں کے اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں بہتر انتظامات کی بدولت ہی مریضوں کو سہولتیں ملیں گی۔

گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی پنجاب کے سرکاری میڈیکل ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری کی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت پنجاب کے کسی بھی میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کی نجکاری کی گئی ہے اور نہ ہی کی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ سے اسپتالوں کو صرف با اختیار بنا کر مریضوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نام پرعوام کو گمراہ کرنے کی سیاست سے گریز کرنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر کو ایم ٹی آئی کے نام پر سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کے علاج معالجہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینگے۔

یاد رہے خیبر پختونخواہ میں رائج بدنام زمانہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ 2018ء (ایم ٹی آئی) کو دیگر صوبوں میں بھی نفاذ کیا جا رہا ہے۔ ایکٹ میں نجی سرمایہ داروں پر مشتمل ایک صوبائی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جارہا ہے۔ٹیچنگ ہسپتالوں کے معاملات چلانے کے لئے پرائیویٹ لوگوں پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے نام پر انتظامی بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ سرچ اینڈ نومینیشن کونسل میں پرائیویٹ لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو بورڈ آف گورنرز کے ممبران کے لیئے نام تجویز کریں گے۔ اس ایکٹ سے پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کے لیئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی بورڈ آف گورنرز کی صورت میں سفید ہاتھیوں کی فوج بھرتی کی جائے گی ۔

کنٹریکٹ پر سپیشلسٹ بھرتی کرنے سے پوسٹ گریجویشن کا نظام تباہی کی طرف جائے گا جس کا مظاہرہ خیبرپختونخواہ میں ہو چکا ہے۔ اداروں کی خودمختیاری کا نام پر نجکاری اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا جا رہا ہے جیسے خیبرپختونخواہ میں پچھلے 6 ماہ سے ینگ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں حالانکہ وہاں انتظامی اور مالی خود مختاری کا نظام رائج ہے۔ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد چونکہ سرکاری ہسپتال بھی فیس لے کر علاج کریں گے اس لئے سرمایہ داروں کے لئے منافعوں کا حصول یقینی بنانے کے لیے یہ صحت کارڈز بانٹے جا رہے ہیں تاکہ اس سے انشورنس کمپنی کی مدد سے پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی ایم ٹی آئی ایکٹ سرکاری ہسپتالوں کو ’خود مختار اداروں‘ میں تبدیل کردے گا جس سے حکومتی فنڈنگ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور سرکاری ہسپتالوں کو اپنے ’فنڈ‘ خود سے جنریٹ کرنے پڑیں گے۔ یعنی یہ نجی اداروں میں بدل جائیں گے۔ اس سے ہسپتالوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین (ڈاکٹر، نرسز، پیرا میڈک سٹاف وغیرہ) کے مستقبل پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

اِس نام نہاد صحت انصاف کارڈ کا ایک اور پہلو پہلے سے موجود نجی ہسپتالوں کی تجوریاں بھرنا بھی ہے۔ کیونکہ بعض مستند اخباری رپورٹوں کے مطابق جہاں یہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں وہاں 60 فیصد ادائیگیاں نجی شعبے کو کی جا رہی ہیں۔ یوں بہرصورت معاملہ یہ ہے کہ صحت کا بجٹ بڑھانے‘ نئے سرکاری ہسپتال بنانے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی بجائے لوگوں کو اِس کارڈ کی بتی کے پیچھے لگا کے نجی شعبے کی طرف ہانکا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کارڈ حاصل کرلینے والوں کے لئے بھی علاج کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔ یہ سارا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ اکثر صورتوں میں انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک قطار سے دوسری قطار اور ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھیجا جاتا رہے گا۔ نجی ہسپتال چند گھونٹ میں ہی کارڈ میں موجود ساری رقم پی جائیں گے جس کے بعد لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوائے جائیں گے۔لیکن عمران خان نے ان سب خبروں کی تردید کردی ہے۔

بورس جانسن کو مسلمانوں کے خلاف بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔۔۔اپنی ہی پارٹی کے سکھ پارلیمنٹرین نے برطانوی وزیر اعظم کو بڑا جھٹکا دے دیا

لندن (قدرت روزنامہ) برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رکن تن من جیت سنگھ نے وزیراعظم بورس جانسن سے اسلامو فوبک ریمارکس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بچپن سے انہیں بھی منفی ریمارکس کا سامنا رہا ہے، جس خاتون کو وزیراعظم جانسن نے لیٹر بکس یا بینک ڈکیت جیسی دکھنے والی کہا تھا، اس کی تکلیف وہ محسوس کرسکتے ہیں، وزیراعظم اپنے تحقیر آمیز ریمارکس کی کب معافی مانگیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم جانسن کنزروٹیو پارٹی میں اسلامو فوبیک تقاریر کی تحقیقات کرائیں۔یاد رہےبورس جانسن نے5 اگست کو ممتاز اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں مسلمان خواتین کے برقع کے حوالےسے ایک کالم لکھ کر برطانیہ میں اسلام مخالف بحث کو آگے بڑھانے کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے۔ انہوں نے ہرچند کہ برطانیہ میں برقع پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ڈنمارک میں نافذ کیے گئے

اس قانون کا حوالہ دیا جس کے تحت وہاں پر نقاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی اور انہوں نے اگرچہ یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس نئے قانون کے حامی نہیں ہیں مگر ان کے آرٹیکل میں چونکہ برقع پہننے والی عورتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ڈاک خانہ اور بینک ڈاکو کے انتہائی قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے جو آناً فاناً جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئے۔ یہ صرف الفاظ کے نشتر ہی نہیں تھے۔ اس کالم کے بعد ٹیل ماما واچ ڈاگ جو نفرت پر مبنی جرائم رپورٹ کرتی ہے، کے مطابق مسلمان برقع پوش خواتین پر اس آرٹیکل کے بعد اسلام فوبک حملوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے اور کم ازکم 4خواتین پر لیٹر بکس کے الفاظ کَسے گئے۔

یہ واقعات لندن اور لوٹن میں پیش آئے ہیں اور ان کا ڈائریکٹ لنک بورس جانسن کے کالم کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔ یہ صورتحال آزادی اظہار سے ماورا ہے ۔ اگلے روز سکائی نیوز کے پروگرام میں ٹوری ایم پی ندین ڈوریس کا جذبات پر کنٹرول نہ رہا۔ بورس کی حمایت میں وہ حد سے بڑھ گئیں اور استدلال پیش کیا کہ ان کی لوگوں سے اس امر پر بات چیت ہوئی ہے۔ لوگ تو اس بات کو غلط سمجھتے ہیں کہ جن خواتین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پبلک مقامات پر سر سے پاوں تک ڈھانپی رہیں۔ یہ ایک لبرل اور پروگریسیو سوسائٹی کی نشانی نہیں اور جب سکائی نیوز میزبان نے یہ دریافت کیا کہ جب خواتین ایسا کسی زور و جبر کے بغیر نہیں اپنی مرضی سے cover up کریں تو پھر؟ اس پر یہ تبصرہ کیا کہ ویل، بورس نے اپنے آرٹیکل میں کہا ہے کہ خواتین کو اس حوالےسے انتخاب کرنے کا حق ہونا چاہے ۔ پھر میزبان نے دریافت کیا کہ کیا

انہوں نے برقع کرنے والی تمام خواتین سے یہ سوال پوچھا تھا ؟ اور کیا انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ ان کے پاس برقع پہننے کے سوا کوئی چوائس نہیں تھی؟ تو رکن پارلیمنٹ سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو میزبان کی مداخلت کو کہ یہ فیئرلی سٹو پیڈ سوال ہے، کہہ دیا۔ یہ بات بھی پھیلائی جارہی ہے کہ مسلمان خواتین جن پر جسمانی تشدد ہوتا ہے وہ اپنے زخم چھپانے کے نقاب پہنتی ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ غالبا” اسی صورت حال کا ادراک کرکے ہی بورس جانسن پر قبل ازیں وزیراعظم اور ان کی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے معذرت کے لیے دباؤ بڑھایا اور مسلمان کمیونٹی سے معافی مانگنے پر زور دیا مگر غالباً سیاسی طاقت کے گھمنڈ میں موصوف اپنے موقف پر ڈٹے رہے جب کہ برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے کوڈ آف کنڈکٹ میں یہ شامل ہے کہ پارٹی ممبران اپنے طرزعمل سے معاشرے میں احترام اور برداشت کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی کریں گے

لیکن بورس جانسن ایک عام ممبر ہی نہیں ہیں سیکرٹری خارجہ کے اہم عہدے پر فائز رہے اور پارٹی اور ملک کے کلیدی عہدوں کے امیدوار ہیں۔ ان جیسی سینئرترین شخصیت کی طرف سے ایسے طرزعمل پر ملک بھر کے مسلمان ہی نہیں ہر سطح پر بڑے پیمانے پر ایک گویا صدمے کی کیفیت طاری ہے۔ باشعور طبقہ برملا یہ کہہ رہا ہے کہ ان کی سطح کے لیڈر کا یہ کہنا کہ مسلمان خواتین جو برقع پہنتی ہیں وہ لیٹر بکس دکھائی دیتی ہیں اور ان کو بنک لوٹنے والوں سے موازنہ کرنا اس طرح کی بات کرکے انہوں نے پردہ پوش مسلمان خواتین کے لیے کئی طرح کے مسائل کھڑے کردیئے ہیں اور ان کے ریمارکس نسل پرستی پھیلانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے۔ کنزرویٹو مسلم فورم کے چیئر محمد امین نے اسی تناظر میں ان ریمارکس کو نہایت بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے انتہائی دائیں بازو کے عناصر کو تقویت مل سکتی ہے۔ اب یہ اچھا ہے کہ خود ان کی پارٹی نے ایک انضباطی کمیٹی قائم کردی ہے جو ان کے ایک حالیہ کالم کے متنازع مندرجات پر غور کرے گی جس میں خواتین جو نقاب اوڑھتی ہیں پر متنازع کامنٹس کیے گئے جبکہ مسلم کونسل آف بریٹن نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ برقع سے متعلق انکوائری کو وائٹ واش نہ ہونے دیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ بورس جانسن نے اپنی پارٹی کے انتہائی دائیں بازو کے ووٹروں کی خوشنودی کے لیے مبینہ طور پر یہ ریس کارڈ کھیلا ہے۔ نائجل فراج کی ان کی حمایت سے بھی بات واضح ہوجاتی ہے ۔

اسی طرح ملک بریگزٹ مخالف اور حمایتی دو دھڑوں میں مزید تقسیم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس سارے بریگزٹ کھیل مسلمان جو اقلیتی طبقے سے متعلق ہیں۔اور 9/11اور داعش کی کارروائیوں میں بعض برطانوی مسلمان نوجوانوں کی شمولیت اور برطانیہ میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں ان کے ملوث ہونے سے پہلے سے ہی دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں اور پھر نسل پرست عناصر جو ویسے ہی ہر معاشرہ میں سرگرم عمل رہتے ہیں اور برطانیہ میں بھی کئی دہائیوں سے مختلف ناموں سے نسل پرست متحرک ہیں۔ تاہم برطانوی لوگوں کا عمومی مزاج کثیر الثقافتی، کثیر المذاہب اور کثیر النسل ہم آہنگی کا سا ہے جس کے باعث نسل پرست کامیاب نہیں ہو پاتے تھے ۔ غالبا” حالیہ عرصے میں نسل پرست عناصر کے جو مائنڈماسٹرز ہیں انہوں نے اب چال بدل دی ہے وہ اب زیادہ تر بریگزٹ اور برٹشنس کے نام پر اپنے خیالات کوہوادے رہے ہیں ۔

باالفاظ دیگر جس نسل پرستی کو برطانوی ہم آہنگی اور یگانگت کے معاشرے میں پھیلانا ممکن نہیں ہوسکا تھا اب اسے بریگزٹ کے لبادہ میں ہوا دی جارہی ہے۔ اس پہلو کو گہرائی اور گیرائی سے جانچنے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے اور بورس جانسن جو اس ملک کی قیادت کے دعویدار ہیں کو ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ کہیں نادانستگی میں تو ایسے عناصر کے ایجنڈے کو تقویت تو نہیں بخش رہے ؟ جو نسلی ہم آہنگی کے خلاف ہیں اور پھر ٹوری پارٹی نے اس عرصہ میں مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جو بعض احسن اقدامات اٹھائے تھے ان کو بھی ان کے کالم سے دھچکہ لگا ہے بی بی سی کے مطابق بورس جانسن کے بیان پر شروع ہونے والا تنازع اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ڈنمارک میں نافذ کیے جانے والے قانون کے بعد برطانیہ میں اسلام مخالف رجحان کے اضافے پر بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔ یہ صورتحال یقینی طور پر خوش آئند بات نہیں۔

رسی جل گئی مگر بَل نی گیا۔۔۔۔ مریم نواز نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو اداروں کے خلاف کیا حکم جاری کر دیا ؟ جان کر حمزہ شہباز بھی غصے میں آگئے

لاہور (قدرت روزنامہ) مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ن لیگ کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنماؤں کو وہاں بلا کر دوبارہ اہم اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی ہدایت کی گئی، نعرے بازی بھی مریم نواز کے میڈیا سیل اور سابق وزیر اطلاعات کی ہدایت پر ہوتی رہی۔ با وثوق ذرائع کے مطابق مریم نواز کی ہدایت پر گزشتہ روز ان کی نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پرپرویز رشید، نہال ہاشمی، جاوید ہاشمی، سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم سمیت ایسے رہنماؤں کو خاص طور پر بلوایاگیا تھا جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرتے رہے ہیں،پیشی پر سب کچھ پلاننگ کے تحت کیا گیا تھا اور باقاعدہ سابق وزیر اطلاعات اور مریم نواز کے سوشل میڈیا کے چار ایکٹویسٹ ن لیگی کارکنوں کو اہم اداروں کے خلاف نعرے لگانے کی تلقین کرتے اور شاباش بھی دیتے رہے ، پھر ن لیگ سوشل میڈیا سیل کے لوگ اداروں کے خلاف اس نعرے بازی کو سوشل میڈیا پر شئیر بھی کرتے رہے ۔جس وقت اداروں کے خلاف نعرے بازی شروع ہوئی تو یوسف عباس نے فوری منع کرنے کی کوشش کی مگر کیپٹن صفدر اور مریم نواز نے انہیں خاموش کرا دیا۔نعرے بازی کی فوٹیج تین غیر ملکی چینلز کو بھیجنے کے حوالے سے مریم نواز نے ہدایت کی جس پرپرویز رشید نے مسکرا کر کہا اب تک پہنچ بھی گئی ہیں ۔اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اداروں کے خلاف سخت رویہ رکھنے والے ان رہنماؤں کو مریم نواز کی طرف سے یہ پالیسی دی گئی ہے ۔پالیسی کے مطابق اداروں پربھرپور تنقید یہ رہنما کریں اور مریم نوازفی الحال خاموش رہیں جبکہ اس مقصد کیلئے باقاعدہ انٹرنیشنل با لخصوص بھارتی میڈیا کو استعمال کیا جائے ۔ اس ضمن میں باقاعدہ ایک علیحدہ سیل بنا دیا گیا جو اداروں کے خلاف تنقید کو بھرپور سپورٹ کرنے سے لیکر دیگر معاملات میں آگے لیکر چلے گا ۔ ذرائع کا کہنا ہے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر جب اداروں کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرنے کے حوالے سے حمزہ شہباز کو علم ہوا تو انہوں نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اوروہ اس وقت تک اوپر نہ آئے جب تک نعرے بازی ختم نہ ہوئی۔سابق چئیرمین پیمرا کو بھی من پسند صحافیوں کی لابی تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔مریم نواز کی ذاتی ٹیم موجودہ حالات میں اہم قومی ادارے کو تنقید کا نشانہ بنا کر غیر ملکی قوتوں کو خوش کرنااورذاتی فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہیں ۔پاکستان میں عدالتوں سے سزا یافتہ اپوزیشن رہنماؤں کی میڈیا کوریج پر غیر اعلانیہ پابندی کے بعد حزب اختلاف نے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کی اہم رہنما مریم نواز نے، جن کے جلسے، ریلیاں، پریس کانفرنس اور انٹرویو دکھانے پر بھی غیر اعلانیہ پابندی ہے، اپنی آواز عوام تک منظم انداز میں پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پر لائیو، ریکارڈڈ اور تحریری طور پر رسائی کو ممکن بنانے کے اقدامات میں تیزی کر دی ہے مسلم لیگ ن کے موجودہ متحرک رہنماؤں کے مطابق وہ اپنے کارکنان کی تربیت کر چکے ہیں اور ان کے ہمدرد بھی سوشل نیٹ ورکس پر اپنی موجودگی بھرپور انداز میں منوا رہے ہیں۔مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم نے ان کے حالیہ جلسے اور پریس کانفرنسز فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر نہ صرف لائیو دکھائے بلکہ ان کی حمایت میں کئی مثبت ٹرینڈز بھی چلائے۔مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ عاطف رؤف نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا ملک بھر میں ساڑھے تین ہزار سے زائد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ن لیگ کی بنیادی سوشل میڈیا ٹیم میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ٹیم کے 35 ارکان موبائل کٹ اور ڈی ایس ایل آر کیمروں کے ہمراہ مریم نواز کے ساتھ ہوں گے اور جہاں بھی وہ خطاب یا میڈیا سے گفتگو کریں گی وہ پیجز اور ویب سائیٹ پر لائیو دکھائی جائے گی۔ان کے مطابق ہر ڈویژن کی ٹیم الگ پیج بنائے گی اور اپنے علاقوں کے پارٹی ایونٹ کور کرے گی۔ ’لاہور، فیصل آباد، گجرانوالہ اور ملتان کی ٹیموں نے بھرپور کام شروع کر دیا ہے جبکہ دیگر ڈویژنز میں ٹیمیں تیار کی جا رہی ہیں۔‘ عاطف رؤف نے بتایا چند روز پہلے ملک بھر کے مختلف اضلاع سے سوشل میڈیا ورکرز کو مسلم لیگ ن ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں باقاعدہ تربیت دی گئی، جس میں 250 کارکنوں نے شرکت کی۔ تربیتی سیشن میں ماہرین نے کارکنوں کو موبائل سے ایونٹ کوریج، ٹرائی پاڈ، مائیک، موبائل اور ڈی ایس ایل آر کیمرے سے لائیو اور ریکارڈ مواد چلانے کے طریقے سکھائے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھی کارکن ہیں اور انہیں فل الحال تنخواہ نہیں دی جا رہی۔ موبائل کٹ بھی بیشتر کارکنوں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہیں۔ تاہم پارٹی کی سطح پر نوجوان کارکنوں کی اس ٹیم کو براہ راست مریم نواز کی سرپرستی حاصل ہے۔ ’پارٹی کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی سطح پر متعارف کرانے میں ضلعی عہدے دار بھی سوشل میڈیا ٹیموں سے تعاون کے پابند ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی حریف جماعت پی ٹی آئی کے مقابلے میں ن لیگ نے تاخیر سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف توجہ دی۔

’’ اگر جہاز میں بیٹھاتے ہو تو حوصلہ بھی رکھا کرو۔۔۔ ‘‘ معروف ٹک ٹاک ماڈلز ’ حریم شاہ‘ اور ’ صندل خٹک ‘ نے مبشر لقمان کی کونسی ویڈیو بنا لی کہ سینئر اینکر دھمکیوں پر اتر آئے؟ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

لاہور(قدرت روزنامہ) ٹک ٹاک، پاکستان کا بچہ بچہ اس بخار کا شکار ہوگیا ہے ،سرکاری محکموں کے خواتین و حضرات اس ایپ کا بے دریغی سے استعمال کر رہے ہیں ، آئے روز مختلف قسم کی ویڈیوز دیکھنے میں ملتی ہیں، ٹک ٹاک کا شکار پاکستانی سیاستدان بھی ہو چکے ہیں ابھی کچھ روز قبل ہی معروف ٹک ٹاک ماڈلز صندل خٹک اور حریم شاہ نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ کچھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیں تو سوشل میڈیا پر طوفان اُمڈ آیا، فیاض الحسن چوہان کو ان ویڈیو کو بعد تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ، اب انہی ٹک ٹاک ماڈلز یعنی حریم شاہ اور صندل خٹک نے مبشر لقمان کے حوالے سے ایسی ویڈیو اپ لوڈ کر دی ہے کہ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک ماڈلز صندل خٹک اور حریم شاہ کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں وہ اپنے مداحوں سے کچھ کہنا چاہ رہی ہیں، اس ویڈیو پیغام میں حریم شاہ اور صندل خٹک کا کہنا تھا کہ ’’ ناظرین ہم لوگ آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں، آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ ہماری کچھ ویڈیو ز وائرل ہوئیں ہیں جو کہ ہیلی کاپٹر اور جہاز میں بنائی گئی ہے، اس ویڈیو میں جو جہاز دکھایا گیا تھا وہ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا تھا، اس ویڈیو کے بعد بہت سے ایشوز آرہے ہیں، ہمیں مبشر لقمان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں کہ وہ ہمیں پولیس کو پکڑوا دیں گے، یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے، پہلے تو آپ نے ہمیں خود بھیجا کہ جائیں اور میرے جہاز کے پاس جا کر ویڈیو بنا لیں، اب اگر ہم نے بنا لی ہے تو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ میں آپ کے گھر آجاؤں گا، کسی لڑکی کو دھوکہ دینا کونسی شرافت ہے؟ یہ آپ کو شبہ ہی نہیں دیتا، اگر آپ کسی کو جہاز میں بیٹھاتے ہیں تو پھر حوصلہ بھی رکھا کریں ‘‘۔ صندل خٹک اور حریم شاہ کا مزید کیا کہنا تھا؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں :

’’ آنٹی جی! یہ کام عمران نے نہیں کِیا بلکہ۔۔۔‘‘ عمران خان پر تنقید، وینا ملک نے ثنا بُچہ کوکرارا جواب دے دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)صلاح الدین کی پنجاب پولیس کی حراست میں ہلاکت نے ایک بار پھر پولیس کی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے، ایسے میں پاکستان میں غصے سے آگ بگولہ ہوگیا، اسے میں پاکستان کے صحافتی ، سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت صوبائی، وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے،

 

ایسے میں کئی صحافیوں کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مختلف طرح کے پیغامات چھوڑے ، نامور خاتون اینکر ثنا بُچہ بھی صلاح الدین کے دفاع میں میدان میں آئیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ خان صاحب کا مدینہ، کوفہ سے بھی جھوٹا اور کربلا سے بھی ظالم نکلا…

 

.کوئی ہے جو ایدھی کو جا کر بتا دے،ریاست کی میت سے بو آ رہی ہے‘‘۔ ثنا بُچہ کے اس پیغام پر وینا ملک بھی میدان میں آگئیں اور انہیں آڑھے ہاتھوں لے لیا، وینا ملک نے ثنا بُچہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ آنٹی جی ۔۔۔!!!یہ کام خان صاحب نے نہیں پنجاب پولیس نے کیا ھے۔۔جس میں ن لیگ کی ا یماء پر بھرتیاں کی جاتی رھیں۔۔آپ ایسا کریں خود جا کر ایدھی صاحب کو یہ بات بتا دیں۔۔۔خس کم جہاں پاک۔۔۔!!!‘‘

 

ریحام خان کی جانب سے بھی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ریحام خان کے حالیہ بیان ’’ حکومت اسی لیے نہیں چلتی کہ سلیکٹڈ صاحب ہر وقت ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر بات انہیں یا تو ٹی وی سے پتا چلتی ہے یا بیوی سے ۔‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے وینا ملک کا کہنا تھا کہ ’’ اور اس عورت کو مسئلہ ان کی بیوی سے ھے!!!ترس آتا ھے اب تو اس پر!!!‘‘

کشمیر میں بھارتی مظالم۔۔۔ چین کی حمایت کے بعد روس بھی کھل کر میدان میں آگیا ، پاکستانی حکومت کے لیے اچھی خبر

اسلا م آباد(قدرت روزنامہ)کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت پر اقوام متحدہ میں چین نے پاکستان کی بھر پور حمایت کی ہے جس کے بعد روس بھی کھول کر سامنا آگیا ہے اس عمل سے دیگر بیرون ممالک نے کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا ج سے بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیر یوں کو شہید کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کی عصمت دری سے دنیا آگاہ ہے۔کرفیو کے باعث نہتے کشمیری اپنےگھروں میں محصور ہیں۔ کشمیر کے حق کیلئے پاکستان کا ایک موقف ہے اور اس موقف پر افواج پاکستان، حکومت اور عوام تمام ایک پیلٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ بھارت کے پاس کشمیریوں کا موقف تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے جبکہ عالمی برادری بھی اس حوالے سے بھارت پر اپنا دباؤ بڑھائے تاکہ کشمیریوں کو انکے جائز حق مل سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ڈی چوک اسلا م آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان سویٹ ہوم کے سربراہ زمرد خان،پی ٹی آئی کے سلیم بٹ، پیپلز پارٹی کی نبیلہ ارشاد سنیئر حریت رہنما غلام محمد صفی، الطاف احمد بٹ، شمیمہ شال، داوود احمد خان،مسیحی برادری کے بشارت کھوکھر، بشیر عثمانی، رشید احمد میر، جمعت علما اسلا م آباد کے رہنما صاحبزادہ امجد جمالی،سردار انقلابی ایڈووکیٹ، طارق گجر، حریت رہنما عبدالمجید ملک، جماعت اسلا می کے امیر بلال اشرف، اور حریت رہنما اشتیاق حمید،ایڈوکیٹ پرویز،سید مظفر شاہ،مظفر احمد کینڈا سے آئے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں، مولانا شبیر کشمیری، مولانا شفیق الرحمن اور حریت رہنما منظور احمد شاہ،زاہد د اشرف، مشتاق احمد اور عبدالحمید لون کے علاوہ لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جلسے کے دوران ذوہیب زمان نے ”میں کشمیر ہوں ”کا کلام پڑھا جس نے شرکا کے دل موہ لیے۔حریت کانفرنس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کل جماعتی حریت کانفرنس مسل کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل چاہتے ہے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے مطابق مسلح جدوجہد اور اپنی جان و مال سمیت ملک کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتی ہے اور کشمیری عوام اپنا یہ ہی حق استعمال کررہی ہے۔ بھارت کشمیری عوام کے خلاف فوج کشی، محاصرے میں قتل عام کی مہم جوئی اور بلاجواز گرفتاری، فوجی بربریت اور طاقت کے وحشیانہ استعمال سے آزادی کی تحریک کو نہیں دبا سکتی جبکہ کشمیر کے حوالے سے چین نے کھل کر حمایت کی ہے جس کے نتیجہ میں روس نے بھی کشمیر موقف پر آواز بلند کی ہے۔ قابض بھارتی فوج گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے، نوجوانوں کو گرفتار کرنے اور خواتین،بزرگوں کی مارپیٹ کرنے اور املاک کو تباہ کر کے صرف ہندوانہ دہشتگردی اور وحشیانہ ذہنیت کا اظہار کررہی ہے تاہم بھارت کے اس عمل کی دنیا بھر کی اقوام نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس سے بھارت کا مکرو چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ کشمیر میں بھارت کی طرف سے حالیہ جابرانہ اقدامات، ریاستی ڈھانچے میں تبدیلی سمیت تقسیم کو غیر قانونی، غیر آئینی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور پاک بھارت باہمی معاہدوں کی تذلیل ہے۔ بھارت کے قابض فوج نے مقبوضہ وادی میں خون کی جو ہولی شروع کررکھی ہے اس کے اختتام کا وقت آنپہنچا ہے۔ بھارت کے وحشیانہ اقدامات اور کرفیوں کے دوران ہی بھارتی ہندوں کو کشمیر میں بسانے کے عمل اور کشمیر عوام کے آبادی کے تناسب کو بدلنے اور سینکڑوں مندر تعمیر کرنے کی نیت سے زمینوں پر قبضہ کرنے شروع کر دئیے ہیں مگر کشمیری ان کے ناپاک عزائم میں انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ عوام بیرونی ممالک میں مقیم کشمیری تارکین وطن، تاجر برادری اور ملازمین کے اتحادو یکجہتی کیساتھ اپنے وطن کی جدوجہد آزادی اور کشمیر پر ڈھائے جانیوالے مظالم سے دنیا کو مسلسل آگاہ رکھنے کی اپیل کرتی ہے۔ اقوام متحدہ سے کشمیر میں امن فوج، خوارک،ادوایات اور ڈاکٹروں کے وفود بھیجنے کی اپیل ہے۔

بیرونی دباؤ۔۔۔ پاکستان کو کس طرح زیر عتاب لایا جارہا ہے؟ موڈیز نے خوفناک انکشاف کر دیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)عالمی ریٹنگز ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ کم ٹیکس بیس، بیرونی قرض اور سودکی ادائیگی پاکستان میں مالی تنگی کا باعث بن رہی ہے، بیرونی دباؤ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالے گا۔تفصیلات کے مطابق عالمی ریٹنگز ایجنسی موڈیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بیرونی دباؤ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالے گا،

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز بی 3 معتدل قوت کی مظہر ہے۔موڈیز کا کہنا ہے کہ مالیاتی اور سیاسی صورتحال معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے، فی کس آمدن اور عالمی اعتبار سے مسابقتی ماحول کافی کم ہے۔اپنی رپورٹ میں موڈیز نے مزید کہا کہ کم ٹیکس بیس، بیرونی قرض اور سودکی ادائیگی مالی تنگی کا باعث بن رہی ہے۔اس سے قبل موڈیز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ پاک بھارت کشمیر پر کشیدگی میں اضافہ معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا، دونوں ممالک میں معاشی اصلاحات جاری ہیں۔موڈیز کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور مالیاتی اہداف کے حصول کے لیے کام ہو رہا ہے، تاہم کشیدگی معاشی اصلاحات سے توجہ ہٹانے کا باعث بنے گی۔عالمی ریٹنگز ایجنسی نے واضح کیا تھا کہ دونوں ممالک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے،

تنازعہ بڑھنے کی صورت میں دونوں ممالک کی معاشی شرح نمو میں کمی آسکتی ہے۔ کشیدگی میں اضافہ دونوں ممالک میں معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا باعث بنے گا۔ موڈیز کے مطابق کشمیر میں گزشتہ 3 سال میں بے روزگاری تاریخ کی بلندترین سطح پر ہے، کشیدگی سیپاکستان کیلئیبیرونی سرمائے کا حصول مشکل ہوسکتا ہے، کشیدگی میں اضافہ کاروباری اورصارفین کے اعتماد اوربیرونی سرمایہ کاری میں کمی کاباعث بنیگا۔عالمی ریٹنگز ایجنسی نے کہا مسئلہ کشمیر کا پرامن حل پاکستان اوربھارت کیحق میں بہتر ہوگا، پاکستان سے کشیدگی کا خاتمہ بھارتی معیشت کے حق میں ہوگا۔یاد رہے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی برقرار ہے۔

جعلی اکاﺅنٹس کیس : چیئرمین نیب نے 7 ملزمان کی 10 ارب 66 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی

اسلام آباد((قدرت روزنامہ) جعلی اکاﺅنٹس کیس میں گرفتار عبدالغنی مجید سمیت 7 ملزمان نے 10 ارب 66 کروڑ روپے کی پلی بارگین کر لی ہے.تفصیلات کے مطابق جعلی اکاﺅنٹس کیس کے گرفتار سات ملزمان نے آخر کار پلی بارگین کرتے ہوئے 10 ارب 66 کروڑ روپے واپس کرنے کے لیے درخواست کر دی ہے. ملزمان میں عبدالغنی مجید سمیت 7 دیگر شامل ہیں، ملزمان نے سندھ اور اسٹیل ملز کی سرکاری زمینوں میں بھی خرد برد کی ہے، پلی بارگین کے تحت ملزمان 266 ایکڑ سے زائد اراضی بھی واپس کریں گے. چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ملزمان کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے. واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جعلی اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کے دوران نیب وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جعلی اکاﺅنٹس کیس میں گرفتار ہونے والے تین ملزمان رقم واپس دینے پر راضی ہوگئے ہیں. وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان خورشید جمالی، عارف اور آصف نے پلی بارگین کے لیے نیب کو درخواست جمع کرا دی ہے. سماعت کے موقع پر عبد الغنی مجید اور دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا تھا، فاضل جج نے عبد الغنی مجید کی اہلیہ مناہل مجید سے متعلق استفسار کیا تو نیب کے وکیل نے بتایا کہ وہ اس وقت بیرون ملک ہے. جعلی اکاﺅنٹس کیس میںسابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی گرفتار ہیں 2 جولائی کو نیب نے 11 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد آصف زرداری کو احتساب عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں نیب کے وکیل نے بتایا کہ پارک لین کیس میں اہم پیشرفت ہوئی لہذا اس کیس میں بھی آصف زرداری کو گرفتار کرلیا گیا. تفتیشی افسر کا کہنا تھا آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی اجلاس میں شرکت کی، آصف زرداری سے تفتیش مکمل نہیں ہو سکی، صرف کل ہی ان سے تفتیش ہوسکی. جس پر جج نے کہا ایک کے بعد دوسرے پھر تیسرے کیس میں گرفتار کیا جائےگا، بہتر نہیں کہ تمام مقدمات کے تفتیشی افسران کو تفتیش کی اجازت دے دیں؟ ایسا کرنے سے بار بارگرفتاری اور ریمانڈ کی ضرورت نہیں پڑے گی.

بھارت میں دھماکہ، 20افراد ہلاک ہو گئے

نئی دہلی ر(قدرت روزنامہ)بھارت میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نیتجے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں زوردار دھماکہ ہوا ہے۔دھماکے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ فیکٹری کے ملبے تلے درجنوں افراد دب گئے ہین۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست پنجاب میں رہائشی علاقے میں واقع آتش گیر مواد بنانے والی فیکٹری زوردار دھماکہ سے منہدم ہو گئی جب کہ آس پاس کی عماعتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ریکسیو اہلکاروں نے امدادی کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے 20 لاشیں نکال لی ہیں تاہم اب بھی فیکٹری کے ملبے تلے درجنوں افراد دبے ہوئے ہیں۔رہائشی علاقہ ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات میں کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ ریٹائرڈ آرمیندر سنگھ نے انتظامیہ کو متاثرین کی ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکووائری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ واضح رہے کہ اب سے دو روز قبل بھی بھارتی صوبہ مہاراشتر میں دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کے صوبہ مہاراشٹر میں کیمیکل پلانٹ میں دھماکہ ہوا ۔دھماکا دھول نامی شہر میں واقع کیمیکل پلانٹ کے گیس سیکشن میں ہوا۔دھماکے اور آتشزدگی کے باعث 58 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔جب کہ آج آتش گیر مواد بنانے والی فیکٹری میں دھماکہ ہوا،جس کے نیتجے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے جب کہ کئی افراد کے ملبے تلے دبنے کی بھی اطلاعات ہیں۔