” نمرتا کی پراسرار ہلاکت، دوست مہران ابڑو نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا،

      لاڑکانہ(قدرت روزنامہ) آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کی پراسرار موت کی تحقیقات جاری ہیں۔نمرتا چندانی کیس میں ایک نیا موڑ آگیا ہے اور ساتھی طالبعلم مہران ابڑو نے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں نمرتا سے دوستی اور ایک دوسرے کو پسند کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ذرائع کے رپورٹ کے مطابق پولیس کو دیئے گئے بیان میں نمرتا کے کلاس فیلو مہران ابڑو کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن میں شادی کیلئے راضی نہ تھا۔بیان کے مطابق ایک دوسرے کو پسند کیے جانے کا معاملہ نمرتا کے گھر والوں کے علم میں بھی تھا جبکہ ساتھی طالبعلم شان علی میمن کے ساتھ اکثر مستحق مریضوں کی مدد کیلئے جاتے رہتے تھے ۔خیال رہے کہ 16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے لیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سے انکارکردیاتھا اوریہ جوازپیش کیا تھا کہ دونوں کے بیچ اسٹیٹس کاایک بہت بڑا فرق ہے۔ مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں۔مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناو¿ کا شکار ہوگئی تھی۔امرتا کے ہاسٹل میں اس کےساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں۔ واقعہ کی رات وہ تقریبا بارہ سے ایک کے درمیان سوگئی تھیں۔صبح چھ بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔ دوپہر دو بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں تو کمرہ اندر سے لاک تھا۔بارہا دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پراندرجھانکاتو لائٹ آن تھی۔ دونوں پریشان ہوئیں اوروارڈن کی مدد سے دروازے کالاک توڑاگیا تو اندر کا منظر دل ہلادینے والا تھا۔ نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا۔دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنےکی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔تفتیشی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا؟ قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا؟ تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی جبکہ نمرتا کا قد تقریبا پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا؟ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا اور جھول گئی۔نمرتا کے بھائی کے مطابق اگر اس نے خودکشی کی ہے تو پنکھا سیدھا کیسے رہ گیا؟تفتیشی اداروں کے مطابق نمرتا کا وزن تقریبا پچاس کلو کے لگ بھگ تھا۔50کلو کے وزن سے پنکھے کا ایک پراوپری سطح سے کچھ متاثر ہواہے جوغورسے دیکھنے پرپتاچلتاہے۔ البتہ نمرتا نے جب کرسی کو دھکا دیا ہوگاتو دوپٹہ پھسل کر پروں کے درمیان آگیا اور وہ نیچے لٹکی اور گرگئی ہوگی جس سے اس کی آنکھ کے قریب آنے والی چوٹ کے نشان واضح ہیں۔ تمام صورتحال پر مزید تحقیقات جاری ہیں تفتیشی حلقوں کے مطابق یہ تمام گھتیاں جلد سلجھا دی جائیں گی۔تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سے بےحد پریشان ہے۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سےدونوں کے درمیان ہونےوالی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھیں۔ مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتے ہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

پنجاب: ماڈل تھانوں کا برا حال، اربوں روپے کے آپریشن فنڈ کا کوئی ریکارڈ نہیں

لاہور (قدرت روزنامہ) حکومتی انوسٹی گیشن رپورٹ نے پنجاب کے ماڈل تھانوں کی کارکردگی سے پردہ اٹھا دیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حکم پر انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کر دی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماڈل تھانوں کے لئے رکھا جانے والا فنڈ تھانوں تک پہنچایا ہی نہیں جاتا، ماڈل تھانوں کے لئے رکھا گیا اربوں کا فنڈ ہیڈ آفس ریکارڈ میں تو خرچ ہوگیا مگر حقیقت میں تھانوں پر کچھ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز نے انکشاف کیا ہے کہ ماڈل تھانوں کے مختص فنڈز تھانوں تک نہیں پہنچتے، ماڈل تھانوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے عوام کو سہولیات کے صرف دعوے کئے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تھانوں کو بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، افسر ماڈل تھانے کے مقاصد سے ہی لاعلم ہیں۔ لاہور سمیت متعدداضلاع کے ماڈل تھانوں میں آپریشن فنڈ کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں، مہنگے آلات ان آپریشنز روم میں نصب کئے گئے جو آپریشنل ہی نہیں ہیں ، ماڈل تھانوں کی بنیادی چیزیں جن میں سی سی ٹی وی کیمرے، تفتیشی کٹس، پٹرولنگ موٹر سائیکلز اور خستہ حال لاک اپس شامل ہیں

ان سب کو ماڈل تھانوں میں مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماڈل تھانوں میں افسر اپنے سٹاف سے ایڈوانس انسپکشن رپورٹ تیار کراتے رہے، سٹاف اور ضلعی انتظامیہ کے مابین رابطوں کا فقدان دکھائی دے رہا ہے، ماڈل تھانوں کی نو تعمیر شدہ عمارتوں میں گندگی کے ڈھیر، فرش صاف ہی نہیں کئے جاتے، واش رومز، دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ 31 ماڈل تھانوں میں مقدمات میں ملوث موٹر سائیکلز صحن میں پارک کی گئی ہیں۔ اسلحہ خانے میں موجود ہتھیار سرعام رکھے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیسنگ کے بنیادی یونٹ تھانے کو جائز اہمیت نہیں دی جا رہی خصوصاً پولیس کے اندر ہی مجاہد فورس، پیرو فورس، ڈولفن فورس جیسے نئے شعبے کھلنے کی وجہ سے تھانوں پر توجہ میں خاطر خواہ کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ماڈل تھانوں کے منصوبے میں کلچر تبدیلی کا تصور کار فرما تھا لیکن اس پر کسی حد تک بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انسپکشن ٹیم کو یہ ٹاسک سونپا تھا کہ وہ مختلف تھانوں کا وزٹ کر کے معاملات کو سامنے لائے، ٹیم نے مختلف تھانوں کا دورہ کیا جس کے بعد اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو بھجوا دی ہے۔ وزیراعلیٰ آفس ذرائع سے ملنے والی انوسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق ماڈل پولیس سٹیشن لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، فیصل آباد اور دیگر اضلاع میں تعینات افسروں اور اہلکاروں کو ماڈل پولیس سٹیشن کے مقصد کا ہی علم نہیں یہاں تک کہ پولیس سٹیشن اے ڈویژن شیخوپورہ کے ایس ڈی پی او نے ٹیم کی موجودگی میں اپنے ہی ایس ایچ او سے پوچھا کہ پولیس ماڈل سٹیشن کیا ہے ، اور کیا اس کا تھانہ ماڈل پولیس سٹیشن ہے ؟ لیکن ایس ایچ او کی جانب سے جواب نہ دیا گیا باقی متعدد تھانوں کے حالات بھی ایسے ہی دیکھنے کو ملے۔ ماڈل پولیس سٹیشن پر تعینات ایس ایچ اوز اور محرروں نے انکشاف کیا کہ گرانٹ کا کوئی مناسب ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے جبکہ سی پی او/ ڈی پی او آفس کا اکائونٹنٹ انہیں صرف فون کر کے کہہ دیتا ہے کہ تمام اخراجات کے بل بھیج دیں، خریدی گئی اشیا اور اخراجات کے بل اکاؤنٹنٹ کو بھجوا دئیے جاتے ہیں اور اس پر محرر یا ایس ایچ او دستخط کر دیتا ہے کہ انہوں نے رقم وصول کر لی جب کہ زیادہ تر کیسز میں انہوں نے یہ رقم کبھی وصول ہی نہیں کی۔ بعض تھانوں کے ریکارڈ میں صرف یہ لکھا کہ کچھ رقم وصول ہوئی ساتھ ہی لکھ دیا کہ رقم خرچ ہو گئی۔ لاہور کے ماڈل پولیس سٹیشن میں یہ بات سامنے آئی کہ آپریشنل فنڈز کا تو کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں

البتہ محرر اپنے ہاتھوں میں پانچ لاکھ روپے کیش رکھتا تھا اس سے پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ رقم آپریشنل فنڈ کی ہے لیکن ریکارڈ میں کسی جگہ موجود نہیں، محرر نے رقم کسی جواز اور قانونی ریکارڈ کے بغیر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آر پی او راولپنڈی کے خط کے مطابق ماڈل تھانوں کے لئے فنڈز کا آڈٹ اور انسپکشن کروائی اس کی آئی جی پنجاب کو بھجوائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مختص رقم نہ تو مطلوبہ مقاصد کے لئے استعمال ہوئی اور نہ ہی ایس او پیز کے مطابق اس پر عمل کیا گیا جبکہ انکوائری کے بعد ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ذمہ داروں کو کلین چٹ دیدی گئی۔ لاہور اور دیگر شہروں کے ماڈل تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا، شام 5 بجے سے اگلی صبح 9 بجے تک شکایات وصول کرنے کے لئے فرنٹ ڈیسک پر کوئی موجود ہی نہیں ہوتا۔ ماڈل تھانہ انارکلی میں مہنگے آئی ٹی آلات جن میں کمپیوٹرز 7 ایل سی ڈیز اور ان سے منسلک تمام ورک سٹیشنز آپریشنل ہی نہیں تھے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے جو شکایات ریکارڈ سے متعلق آتی ہیں انہیں متعلقہ افسر چند روز بعد خود ہی کلیئر کر دیتے ہیں،ماڈل تھانوں میں سٹاف کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ، تھانہ پیپلز کالونی فیصل آباد میں خستہ حال کمرے میں گندے فرش پر چٹائیاں بچھائی ہوئی تھیں جن پر بیٹھ کر سٹاف کام کر رہا تھا۔ماڈل تھانہ مظفر گڑھ سٹی کے ایک مہینہ پہلے لکھے ہوئے انسپکشن نوٹ سے انکشاف ہواکہ اس کے مال خانے اور متفرق خانے کو پہلے وزٹ کیا گیا تھا لیکن ابھی بھی وہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے جو پہلے تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ شہباز شریف اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کو ایک ہی خاتون سے عشق ہو گیا ۔۔ اس عشق کا انجام کیا ہوا ؟

      لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستانی سیاست میں موجودہ ہلچل کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی افق پر کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ سیاسی رہنما ان دنوں آنے والے الیکشن کیلئے بڑی سرگرمی کے ساتھ مصروف نظر آتے ہیں۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ہر کامیاب سیاستدان کے پیچھے اس کی بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں کئی سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے یا تو اپنے جیون ساتھی کو میڈیا کی چکا چوند سے دور رکھا یا پھر وہ خود ہی میڈیا کے سامنے اتنی قلیل مدت کیلئے آئے کہ اب ان کا ایک ہیولا سا آنکھوں کے سامنے محسوس ہوتا ہے ۔سابق صدر پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا پرویز مشرف بھی انہی خواتین میں شامل ہیں جو اپنے شوہر کے اقتدار میں ہونے کے باوجود بہت کم میڈیا میں آئیں اور ان کی بہت کم تصاویر عوام کے سامنے آسکیں ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز شریف نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے قبل تک سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا اور امور خانہ داری تک اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ مگر نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ مسلم لیگ ن کی تحریک میں صف اول میں نظر آئیں اور رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوگئیں۔پیپلز پارٹی سندھ کی رہنما شرمیلا فاروقی نے گھر والوں کی مرضی سے حشام ریاض شیخ کو جیون ساتھی بنا لیا جن کو میڈیا نمائندوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اہلیہ تہمینہ درانی کو اپنا جیون ساتھی بنایا ۔ تہمینہ درانی بھی شادی کے بعد میڈیا سے بہت دور ہوگئیں اور امور خانہ داری کو اپنا لیا ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اہلیہ مریم نواز نے بھی والد کی نااہلی سے قبل تک کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی اور نہ کسی جلسے سے خطاب کیا تھا مگر اپنے والد کے نااہل ہونے کے بعد ان کی سیاسی تحریک میں مریم نواز نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور جلسوں کے ساتھ ساتھ ریلیوں میں بھی بھرپور شرکت کی ۔سابق وزیر حنا ربانی کھر نے فیروز گلزار کو اپنا جیون ساتھی چنا لیکن ایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ انہیں میڈیا میں کسی نے دیکھا ہو یا ان کی کوئی تصویر حنا ربانی کھر کے ساتھ شائع ہوئی ہو۔ پیپلز پارٹی کی دبنگ رہنما شیریں رحمان پاکستانی سیاست میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں لیکن ان کے شریک حیات کو بھی ان کے ساتھ تقاریب میں بہت کم دیکھا گیا ہے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی اہلیہ فوزیہ گیلانی نے شاذ و نادر ہی اپنے خاوند کے ساتھ تقاریب میں شرکت کی ہو۔ وہ بھی میڈیا سے خاصی دور رہیں اور خاص مواقعوں کے علاوہ میڈیا نمائندوں نے انہیں بہت کم تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا ۔

عثمان بُزدار ڈٹ گئے، وزیر اعظم عمران خان کے سامنے بڑا مطالبہ رکھ دیا

لاہور (قدرت روزنامہ)معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم عمران خان کے پاس ملاقات کرنے گئے۔عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان سے کئی وزراء کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔عثمان بزدار نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اس کے علاوہ یاسمین راشد اور اسلم اقبال کو بھی اپنے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں یہ ہوتا تھا کہ وسطی پنجاب کے سارے لوگ ہونے چاہئیے۔نواز شریف کو سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگ پسند نہیں تھے۔عثمان بزدار کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شام اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔عثمان بزدار کے کہنے پر عون چوہدری اور شہباز گل کو تو ہٹا دیا گیا لیکن اب وہ چوہدری سرور کو بھی ہٹانا چاہتے ہیں۔عثمان بزدار کے پیچھے جہانگیر ترین اور چوہدری پرویز الہیٰ کھڑے ہیں جو اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان پر عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔اس حوالے سے سینئیر صحافی محمد مالک کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو نہ ہٹانے پر مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں دراڑ پڑ گئی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ آج تک خبریں آ رہی تھیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بااثر حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک دو بار بات کی ہے۔ اب یہ بات کب اور کہاں جا کر ختم ہو گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔محمد مالک نے مزید کہا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب پر بااثر حلقوں کی طرف سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزادر کوا س وقت سے ہی تنقید کا سامنا ہے جب سے وہ وزیراعلیٰ بنائے،سینئیر تجزیہ نگاروں اور اپوزیشن کی طرف سے انہیں ایک ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ قرار دے دیا گیا لیکن وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ ان کا دفاع کیا،جس سے یہ تاثر بھی ملا کہ شاہد عثمان بزدار اسٹیبلشمنٹ کو بھی قابل قبول ہیں۔

علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا ‘جھوٹا’ الزام لگانے والی خاتون کی معذرت

سعودی عرب سے تیل کی فراہمی میں کمی، مشرق وسطی میں کشیدگی کے بڑھنے کی باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا

ریاض، دبئی(قدرت روزنامہ) سعودی عرب سے تیل کی فراہمی میں کمی آنے اور مشرق وسطی میں کشیدگی کے بڑھنے کی باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ برینٹ کروڈ فیوچرز میں تیل کی قیمت بڑھ کر فی بیرل 65.50 ڈالر ہوگئی۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز میں تیل کی قیمت فی بیرل 58.61 ڈالر ہوگئی۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے برآمدکار سعودی عرب کی عالمی مارکیٹ کو رواں ماہ کے آخر تک اپنی پوری پیداوار بحال کرنے کی یقین دہانی کے باوجود خریدار اور تاجر کی تشویش برقرار ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی آرامکو کے آئل پروسیسنگ پلانٹ پر گزشتہ ہفتے حملہ کیا گیا تھا۔حملے کی وجہ سے پلانٹ کا کچھ حصہ متاثر ہوا تھا جس کے بعد اسے بند کردیا گیا تھا۔ سنگاپور کے توانائی کے امور کی مہارت رکھنے والے وریندرا چوہان کا کہنا تھا کہ ‘فنڈ برادری حملے کو اس مفروضے پر بھلا چکی تھی کہ سپلائی فوری بحال ہوجائے گی تاہم حقیقت اس سے مختلف نظر آئی’۔حملے کے بعد مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، پینٹاگون نے خلیج میں اضافے فوج تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ سعودی عرب کی فضائی اور میزائل ڈیفنس کو مضبوط کیا جاسکی’۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو ‘مزاحمت اور دفاع’ کے لیے تعینات کیا ہے اور واشنگٹن ایران سے جنگ نہیں چاہتا۔امریکا کی ریاست ٹیکساس کے ریفائنرئز پر آنے والے طوفان کا اثر کم ہوا ہے اور ایگزون موبل کورپوریشن اور والیرو کورپوریشن نے اپنی کروڈ پروسیسنگ یونٹس کو گزشتہ روز بحال کردیا ہے۔

امرود کے پتوں کو 20منٹ تک پانی میں پکائیں اور پھر وہ پانی استعمال کریں۔۔کمال خود دیکھیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اگر آپ کے بال گر رہے ہیں تو یہ پھل استعمال کر یں اور حیران کن نتائج حاصل کریںمردو خواتین اپنے گرتے بالوں کی وجہ سے یکساں طور پر پریشان ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما بڑھانے اور گرنے سے روکنے کیلئے ادویات کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے جس کا سائیڈ ایفکٹ ہوتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں کے باقاعدہ استعمال سے آپ کے بال گرنا رک جائیں گے اورساتھ ہی نئے بال بھی اگنے لگیں گے۔ان میں موجود وٹامن بی آپ کے بالوں کیلئے نہایت مفید ہے۔امرود کے کافی زیادہ پتے لیکر انہیں پانی میں 20منٹ تک ابالیں ،پانی کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اس پانی کو سر میں لگا کر چند گھنٹو ں کیلئے چھوڑ دیں ۔نارمل پانی سے دھولیں ،رات کو سونے سے پہلے امرود کے پانی کو سر بھی لگائیں اور اس سے مساج کرنے کے بعد سر پر لگارہنے دیں اور سوجائیں صبح اٹھ کر سر کو نارمل پانی سے دھوئیں ۔چند ہی دن میں آپ دیکھیں گے کہ بال گرنا بند ہو گئے ہیں اور نئے با ل بھی اگنے لگے ہیں۔

بھارت کا یک طرفہ اقدام مسترد، شنگھائی تعاون تنظیم کی مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیشکش

بیجنگ (قدرت روزنامہ) بھارت کو ایک اور سبکی کا سامنا، سفارتی محاذ پر پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی، شنگھائی تعاون تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی پیش کش کر دی۔مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا بھر میں تشویش کی لہر، شنگھائی تعاون تنظیم نے مسئلہ حل کرانے کی پیش کش کر دی، سربراہ شنگھائی تعاون تنظیم ولادی میر نوروف نے کہا ہے کہ مسٔلے کے حل کا بنیادی اصول ہے کہ کوئی یکطرفہ اقدامات نہ اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا

کہ اس کے پرامن حل کے لیے بہترین کوششیں کی جائیں گی، ایس سی او کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ ایشوز ہی سہی مگر ممبر ممالک ایک طرف خاموش ہو کر نہیں بیٹھ سکتے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں چین، پاکستان، روس، بھارت، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

بھارت کو ایک بار پھر شدید شرمندگی کا سامنا، چین کا ایسا اقدام کہ مودی سرکار منہ تکتی رہ گئی

چین(قدرت روزنامہ)بھارت کو چین سے ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدام کرنے پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اسے تازہ ترین دھچکا اس وقت لگا جب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کے پیش نظر بھارت کا طے شدہ دورہ ملتوی کردیا۔ چینی وزیر خارجہ کا بھارت کا دورہ شیڈول تھا تاہم چین کے وزیر خارجہ نے بھارت کا دورہ اچانک منسوخ کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ چینی وزیر خارجہ نے 9 اور 10ستمبر کو بھارت کا دورہ روزہ دورہ کرنا تھا۔جب کہ دوسری جانب کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارت کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے خبر دی ہے کہ چینی وزیر خارجہ کے دورہ ملتوی کرنے سے رواں سال اکتوبر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان طے شدہ ملاقات بھی کھٹائی میں پڑگئی ہے۔خبررساں ادارے نے کہاکہ چینی وزیر خارجہ کے دورہ بھارت ملتوی کرنے کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے جوڑا جارہا ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وانگ یی رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

دریں اثناءایک تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کربلا جیسی صورتحال ہے، سعودی عرباور متحدہ عرب امارات کا او آئی سی میں اہم کردار ہوگا، دنیا کہتی ہے معاملہ ڈائیلاگ کے ذریعے حل کریں گے لیکن صورتحال تودیکھیں. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ اوآئی سی کافورم اہم ہے، او آئی سی نے مطالبہ کیا بھارت فوری مقبوضہ وادی سے کرفیو اٹھائے، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے. وزیرخارجہ نے کہا کہ ہمارے لوگ عجلت کامظاہرہ کرتے ہیں، تھوڑا صبر کرنا چاہیے، سفارتکاری میں تھوڑا وقت لگتا ہے کیونکہ پوائنٹ بنانا پڑتا ہے، سعودی عرب اور یو اے ای کی بھارت میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری ہے.

’’اب کوئی مائی کا لال پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست دے کر دکھائے۔۔۔۔‘‘ مخالف ٹیم کو دھول چٹا دینے والا پاکستان کو ایک اور شعیب اختر مل گیا

پورٹ آف سپین (قدرت روزنامہ) پاکستان کے نوجوان فاسٹ باﺅلر محمد حسنین نے کیریبین پریمیر لیگ (سی پی ایل) کے اپنے پہلے ہی میچ میں دھوم مچا دی اور عمدہ کارکردگی کے ذریعے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔تفصیلات کے مطابق19سالہ محمد حسنین سی پی ایل میں ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا مقابلہ سینٹ کٹس اینڈ نیویس پیٹریاٹس سے ہوا جس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمد حسنین نے 36رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جن میں ہم وطن سینئر بلے باز محمد حفیظ کی وکٹ بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چوتھا ایڈیشن جیتنے والی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے محمد حسنین کو دریافت کیا اور انہیں ٹیم میں جگہ دی جنہوں نے اپنی کارکردگی کی بدولت آئی سی سی ورلڈکپ 2019 ءکے لیے قومی سکواڈ میں بھی جگہ بنائی تاہم وہ میگا ایونٹ کا ایک میچ بھی نہیں کھیل سکے تھے۔محمد حسنین اب تک5ون ڈے انٹر نیشنل اور ایک ٹی ٹونٹی انٹر نیشنل میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کے ہمراہ قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے پریس بریفنگ دی۔اس دوران مصباح الحق نے پی سی بی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے 2 اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ میں جو کچھ بھی ہوں، میں نے بطور کرکٹر جو بھی حاصل کیا وہ پاکستان کے نام کے بغیر ممکن نہیں تھا،

جو بھی کرکٹ کھیلی اور عزت ملی اگر اس سے پاکستان کا نام ہٹا دیں تو کچھ نہیں ہے، لہٰذا میں اس ملک کا اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ہیڈکوچ اور چیف سیلکٹر کی ذمہ داریوں پر ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے، تاہم جب اختیار آتا ہے تو وہ آپ کا امتحان ہوتا ہے جسے ایمانداری سے پورا کرنا ہوتا ہے لیکن یہ آسان نہیں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ میں پوری ایمانداری اور طاقت سے اپنا کردار ادا کروں اور پاکستان کرکٹ کی بہتری، اس کی ترقی، پیشہ وارانہ صلاحیت اور نظام کے لیے کام کروں۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جس کا وسیم خان اور مصباح الحق نے جواب دیا۔وسیم خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو سلیکشن کمیٹی پہلے تھی وہ ختم ہوگئی لیکن جو 6 ہیڈ کوچز تھے وہ چیف سلیکٹر کے ساتھ کام کریں گے کیونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں تمام چیزیں دیکھتے ہیں۔