ملک کہاں تھا اور کہاں پر لا کر کھڑا کردیا گیا: جسٹس قاضی فائز

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ملک کہاں تھا اور کہاں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس مشمیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیےکہ حکومت کو اس کیس میں نظرثانی کے لیے آنا چاہیے تھا ،آپ کا حق دعویٰ نہیں بنتا۔ 2013ء کا فیصلہ ہے۔اس پر عمل کیوں نہیں ہوا۔جنگلات کا تحفظ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں کم جنگلات رہ گئے ہیں انہیں بھی ویران کیا جا رہا ہے۔جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے مزید کہا کہ جنگلات سے متعلق تمام قوانین کرپشن کے تحفظ کے لیے بنائے گئے۔ ملک کہاں تھا اورکہاں پر لاکر کھڑا کر دیا۔

اصل مسئلہ ماحول کا تحفظ ہے۔اتنا اہم قانون آرڈیننس کے ذریعے کیوں لایا گیا۔قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں

تو پارلیمان کو بند کر دیں۔انہوں نے کہا کہ ڈکٹیر کے قانون کو کوئی چھونے کے لیے تیار نہیں۔ایک ڈکٹیٹر آکر دو منٹ میں پارلیمنٹ کو اڑا دیتا ہے۔آج کل کے ماحول میں آزادی سے کوئی بات بھی نہیں کر سکتے۔انہوں کہا کہ ان مقدمات میں ہر آدمی جھوٹا ہے۔ جنگلات کاٹنے والے لوگ نسلوں کو قتل کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی عیسیٰ نے یہ ریمارکس خیبرپختونخوا جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دئیے۔خیال رہے کہ گلوبل وارمنگ کی تشویشناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگلات کا تحفظ بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ جنگلات زندگی کی علامت ہیں جن کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

حفیظ کو ڈراپ کیے جانے کی وجہ ان کی کارکردگی کا عدم تسلسل تھا، مصباح الحق

      لاہور (قدرت روزنامہ) قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے محمد حفیظ کو سری لنکاکے خلاف کھیلنےوالے سکاڈ میں شامل نہ کیے جانے کی اہم وجہ بتا دی ہے۔ کرکٹ کی ایک معروف ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ حفیظ کی عدم شمولیت کے حوالے سے مصباح الحق نے بتایا ہے کہ انھوںنے ون ڈے کرکٹ کی آخری مرتبہ سنچری بنانے کے بعد 11نصف سنچریاں سکور کی ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس وقت دو ہندسوں کو تین ہندسوں میں بدلنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ٹیم میں اس وقت ایسے نوجوان کھلاڑی سامنے آرہے ہیں جو زیادہ سنچریاں بنا رہے ہیں اور ان کا کنورژن ریٹ بہتر ہے اس لئے ہماری ترجیح ایسے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوگا۔ مصباح الحق کہتے ہیں کہ اگر ایک طویل عرصے کےبعد پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں تسلسل دیکھنے میں آرہا ہے تو اس کی اہم وجہ قومی ٹیم کے نوجوان بلے باز ہیں۔ ہمارا مقصد ان کو تسلسل کے ساتھ موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اعتماد حاصل کرکے پاکستان کےلئے لمبا عرصہ کھیلتے ہوئے پرفارمنس بھی دے سکیں۔

” نمرتا کی پراسرار ہلاکت، دوست مہران ابڑو نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا،

      لاڑکانہ(قدرت روزنامہ) آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کی پراسرار موت کی تحقیقات جاری ہیں۔نمرتا چندانی کیس میں ایک نیا موڑ آگیا ہے اور ساتھی طالبعلم مہران ابڑو نے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں نمرتا سے دوستی اور ایک دوسرے کو پسند کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ذرائع کے رپورٹ کے مطابق پولیس کو دیئے گئے بیان میں نمرتا کے کلاس فیلو مہران ابڑو کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن میں شادی کیلئے راضی نہ تھا۔بیان کے مطابق ایک دوسرے کو پسند کیے جانے کا معاملہ نمرتا کے گھر والوں کے علم میں بھی تھا جبکہ ساتھی طالبعلم شان علی میمن کے ساتھ اکثر مستحق مریضوں کی مدد کیلئے جاتے رہتے تھے ۔خیال رہے کہ 16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھے لیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سے انکارکردیاتھا اوریہ جوازپیش کیا تھا کہ دونوں کے بیچ اسٹیٹس کاایک بہت بڑا فرق ہے۔ مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں۔مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناو¿ کا شکار ہوگئی تھی۔امرتا کے ہاسٹل میں اس کےساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں۔ واقعہ کی رات وہ تقریبا بارہ سے ایک کے درمیان سوگئی تھیں۔صبح چھ بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔ دوپہر دو بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں تو کمرہ اندر سے لاک تھا۔بارہا دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پراندرجھانکاتو لائٹ آن تھی۔ دونوں پریشان ہوئیں اوروارڈن کی مدد سے دروازے کالاک توڑاگیا تو اندر کا منظر دل ہلادینے والا تھا۔ نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا۔دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنےکی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔تفتیشی ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا؟ قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا؟ تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی جبکہ نمرتا کا قد تقریبا پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا؟ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا اور جھول گئی۔نمرتا کے بھائی کے مطابق اگر اس نے خودکشی کی ہے تو پنکھا سیدھا کیسے رہ گیا؟تفتیشی اداروں کے مطابق نمرتا کا وزن تقریبا پچاس کلو کے لگ بھگ تھا۔50کلو کے وزن سے پنکھے کا ایک پراوپری سطح سے کچھ متاثر ہواہے جوغورسے دیکھنے پرپتاچلتاہے۔ البتہ نمرتا نے جب کرسی کو دھکا دیا ہوگاتو دوپٹہ پھسل کر پروں کے درمیان آگیا اور وہ نیچے لٹکی اور گرگئی ہوگی جس سے اس کی آنکھ کے قریب آنے والی چوٹ کے نشان واضح ہیں۔ تمام صورتحال پر مزید تحقیقات جاری ہیں تفتیشی حلقوں کے مطابق یہ تمام گھتیاں جلد سلجھا دی جائیں گی۔تفتیشی حلقوں کامحور مہران ابڑو ہے جو نمرتاکی موت کے بعد سے بےحد پریشان ہے۔ مہران ابڑو نے اپنے فون سےدونوں کے درمیان ہونےوالی تمام چیٹ پہلے ہی ضائع کر دی تھیں۔ مہران ابڑو کو پولیس نے حفاطتی تحویل میں لے لیا ہے۔ تفتیش کرنےوالے کہتے ہیں کہ نمرتا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ جدیدماڈل ہونے کی وجہ سے فون ان لاک کئے جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ شہباز شریف اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کو ایک ہی خاتون سے عشق ہو گیا ۔۔ اس عشق کا انجام کیا ہوا ؟

      لاہور(قدرت روزنامہ) پاکستانی سیاست میں موجودہ ہلچل کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی افق پر کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ سیاسی رہنما ان دنوں آنے والے الیکشن کیلئے بڑی سرگرمی کے ساتھ مصروف نظر آتے ہیں۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ہر کامیاب سیاستدان کے پیچھے اس کی بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں کئی سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے یا تو اپنے جیون ساتھی کو میڈیا کی چکا چوند سے دور رکھا یا پھر وہ خود ہی میڈیا کے سامنے اتنی قلیل مدت کیلئے آئے کہ اب ان کا ایک ہیولا سا آنکھوں کے سامنے محسوس ہوتا ہے ۔سابق صدر پرویز مشرف کی اہلیہ صہبا پرویز مشرف بھی انہی خواتین میں شامل ہیں جو اپنے شوہر کے اقتدار میں ہونے کے باوجود بہت کم میڈیا میں آئیں اور ان کی بہت کم تصاویر عوام کے سامنے آسکیں ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز شریف نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے قبل تک سیاسی میدان میں قدم نہیں رکھا اور امور خانہ داری تک اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ مگر نواز شریف کی نااہلی کے بعد وہ مسلم لیگ ن کی تحریک میں صف اول میں نظر آئیں اور رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوگئیں۔پیپلز پارٹی سندھ کی رہنما شرمیلا فاروقی نے گھر والوں کی مرضی سے حشام ریاض شیخ کو جیون ساتھی بنا لیا جن کو میڈیا نمائندوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اہلیہ تہمینہ درانی کو اپنا جیون ساتھی بنایا ۔ تہمینہ درانی بھی شادی کے بعد میڈیا سے بہت دور ہوگئیں اور امور خانہ داری کو اپنا لیا ۔ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی صاحبزادی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اہلیہ مریم نواز نے بھی والد کی نااہلی سے قبل تک کسی سیاسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی تھی اور نہ کسی جلسے سے خطاب کیا تھا مگر اپنے والد کے نااہل ہونے کے بعد ان کی سیاسی تحریک میں مریم نواز نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور جلسوں کے ساتھ ساتھ ریلیوں میں بھی بھرپور شرکت کی ۔سابق وزیر حنا ربانی کھر نے فیروز گلزار کو اپنا جیون ساتھی چنا لیکن ایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ انہیں میڈیا میں کسی نے دیکھا ہو یا ان کی کوئی تصویر حنا ربانی کھر کے ساتھ شائع ہوئی ہو۔ پیپلز پارٹی کی دبنگ رہنما شیریں رحمان پاکستانی سیاست میں سرگرم کارکن کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں لیکن ان کے شریک حیات کو بھی ان کے ساتھ تقاریب میں بہت کم دیکھا گیا ہے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کی اہلیہ فوزیہ گیلانی نے شاذ و نادر ہی اپنے خاوند کے ساتھ تقاریب میں شرکت کی ہو۔ وہ بھی میڈیا سے خاصی دور رہیں اور خاص مواقعوں کے علاوہ میڈیا نمائندوں نے انہیں بہت کم تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا ۔

عثمان بُزدار ڈٹ گئے، وزیر اعظم عمران خان کے سامنے بڑا مطالبہ رکھ دیا

لاہور (قدرت روزنامہ)معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم عمران خان کے پاس ملاقات کرنے گئے۔عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان سے کئی وزراء کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔عثمان بزدار نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اس کے علاوہ یاسمین راشد اور اسلم اقبال کو بھی اپنے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں یہ ہوتا تھا کہ وسطی پنجاب کے سارے لوگ ہونے چاہئیے۔نواز شریف کو سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگ پسند نہیں تھے۔عثمان بزدار کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شام اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔عثمان بزدار کے کہنے پر عون چوہدری اور شہباز گل کو تو ہٹا دیا گیا لیکن اب وہ چوہدری سرور کو بھی ہٹانا چاہتے ہیں۔عثمان بزدار کے پیچھے جہانگیر ترین اور چوہدری پرویز الہیٰ کھڑے ہیں جو اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان پر عثمان بزدار کو ہٹانے کے لیے بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔اس حوالے سے سینئیر صحافی محمد مالک کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو نہ ہٹانے پر مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں دراڑ پڑ گئی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ آج تک خبریں آ رہی تھیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بااثر حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنے کے لیے ایک دو بار بات کی ہے۔ اب یہ بات کب اور کہاں جا کر ختم ہو گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔محمد مالک نے مزید کہا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب پر بااثر حلقوں کی طرف سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزادر کوا س وقت سے ہی تنقید کا سامنا ہے جب سے وہ وزیراعلیٰ بنائے،سینئیر تجزیہ نگاروں اور اپوزیشن کی طرف سے انہیں ایک ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ قرار دے دیا گیا لیکن وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ ان کا دفاع کیا،جس سے یہ تاثر بھی ملا کہ شاہد عثمان بزدار اسٹیبلشمنٹ کو بھی قابل قبول ہیں۔

پنجاب: ماڈل تھانوں کا برا حال، اربوں روپے کے آپریشن فنڈ کا کوئی ریکارڈ نہیں

لاہور (قدرت روزنامہ) حکومتی انوسٹی گیشن رپورٹ نے پنجاب کے ماڈل تھانوں کی کارکردگی سے پردہ اٹھا دیا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حکم پر انسپکشن ٹیم نے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کر دی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماڈل تھانوں کے لئے رکھا جانے والا فنڈ تھانوں تک پہنچایا ہی نہیں جاتا، ماڈل تھانوں کے لئے رکھا گیا اربوں کا فنڈ ہیڈ آفس ریکارڈ میں تو خرچ ہوگیا مگر حقیقت میں تھانوں پر کچھ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز نے انکشاف کیا ہے کہ ماڈل تھانوں کے مختص فنڈز تھانوں تک نہیں پہنچتے، ماڈل تھانوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے عوام کو سہولیات کے صرف دعوے کئے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تھانوں کو بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، افسر ماڈل تھانے کے مقاصد سے ہی لاعلم ہیں۔ لاہور سمیت متعدداضلاع کے ماڈل تھانوں میں آپریشن فنڈ کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں، مہنگے آلات ان آپریشنز روم میں نصب کئے گئے جو آپریشنل ہی نہیں ہیں ، ماڈل تھانوں کی بنیادی چیزیں جن میں سی سی ٹی وی کیمرے، تفتیشی کٹس، پٹرولنگ موٹر سائیکلز اور خستہ حال لاک اپس شامل ہیں

ان سب کو ماڈل تھانوں میں مکمل طورپر نظر انداز کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماڈل تھانوں میں افسر اپنے سٹاف سے ایڈوانس انسپکشن رپورٹ تیار کراتے رہے، سٹاف اور ضلعی انتظامیہ کے مابین رابطوں کا فقدان دکھائی دے رہا ہے، ماڈل تھانوں کی نو تعمیر شدہ عمارتوں میں گندگی کے ڈھیر، فرش صاف ہی نہیں کئے جاتے، واش رومز، دروازے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ 31 ماڈل تھانوں میں مقدمات میں ملوث موٹر سائیکلز صحن میں پارک کی گئی ہیں۔ اسلحہ خانے میں موجود ہتھیار سرعام رکھے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیسنگ کے بنیادی یونٹ تھانے کو جائز اہمیت نہیں دی جا رہی خصوصاً پولیس کے اندر ہی مجاہد فورس، پیرو فورس، ڈولفن فورس جیسے نئے شعبے کھلنے کی وجہ سے تھانوں پر توجہ میں خاطر خواہ کمی محسوس کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ماڈل تھانوں کے منصوبے میں کلچر تبدیلی کا تصور کار فرما تھا لیکن اس پر کسی حد تک بھی عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے انسپکشن ٹیم کو یہ ٹاسک سونپا تھا کہ وہ مختلف تھانوں کا وزٹ کر کے معاملات کو سامنے لائے، ٹیم نے مختلف تھانوں کا دورہ کیا جس کے بعد اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو بھجوا دی ہے۔ وزیراعلیٰ آفس ذرائع سے ملنے والی انوسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق ماڈل پولیس سٹیشن لاہور، شیخوپورہ، اوکاڑہ، فیصل آباد اور دیگر اضلاع میں تعینات افسروں اور اہلکاروں کو ماڈل پولیس سٹیشن کے مقصد کا ہی علم نہیں یہاں تک کہ پولیس سٹیشن اے ڈویژن شیخوپورہ کے ایس ڈی پی او نے ٹیم کی موجودگی میں اپنے ہی ایس ایچ او سے پوچھا کہ پولیس ماڈل سٹیشن کیا ہے ، اور کیا اس کا تھانہ ماڈل پولیس سٹیشن ہے ؟ لیکن ایس ایچ او کی جانب سے جواب نہ دیا گیا باقی متعدد تھانوں کے حالات بھی ایسے ہی دیکھنے کو ملے۔ ماڈل پولیس سٹیشن پر تعینات ایس ایچ اوز اور محرروں نے انکشاف کیا کہ گرانٹ کا کوئی مناسب ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے جبکہ سی پی او/ ڈی پی او آفس کا اکائونٹنٹ انہیں صرف فون کر کے کہہ دیتا ہے کہ تمام اخراجات کے بل بھیج دیں، خریدی گئی اشیا اور اخراجات کے بل اکاؤنٹنٹ کو بھجوا دئیے جاتے ہیں اور اس پر محرر یا ایس ایچ او دستخط کر دیتا ہے کہ انہوں نے رقم وصول کر لی جب کہ زیادہ تر کیسز میں انہوں نے یہ رقم کبھی وصول ہی نہیں کی۔ بعض تھانوں کے ریکارڈ میں صرف یہ لکھا کہ کچھ رقم وصول ہوئی ساتھ ہی لکھ دیا کہ رقم خرچ ہو گئی۔ لاہور کے ماڈل پولیس سٹیشن میں یہ بات سامنے آئی کہ آپریشنل فنڈز کا تو کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں

البتہ محرر اپنے ہاتھوں میں پانچ لاکھ روپے کیش رکھتا تھا اس سے پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ رقم آپریشنل فنڈ کی ہے لیکن ریکارڈ میں کسی جگہ موجود نہیں، محرر نے رقم کسی جواز اور قانونی ریکارڈ کے بغیر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق آر پی او راولپنڈی کے خط کے مطابق ماڈل تھانوں کے لئے فنڈز کا آڈٹ اور انسپکشن کروائی اس کی آئی جی پنجاب کو بھجوائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مختص رقم نہ تو مطلوبہ مقاصد کے لئے استعمال ہوئی اور نہ ہی ایس او پیز کے مطابق اس پر عمل کیا گیا جبکہ انکوائری کے بعد ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ذمہ داروں کو کلین چٹ دیدی گئی۔ لاہور اور دیگر شہروں کے ماڈل تھانوں میں فرنٹ ڈیسک کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا، شام 5 بجے سے اگلی صبح 9 بجے تک شکایات وصول کرنے کے لئے فرنٹ ڈیسک پر کوئی موجود ہی نہیں ہوتا۔ ماڈل تھانہ انارکلی میں مہنگے آئی ٹی آلات جن میں کمپیوٹرز 7 ایل سی ڈیز اور ان سے منسلک تمام ورک سٹیشنز آپریشنل ہی نہیں تھے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے جو شکایات ریکارڈ سے متعلق آتی ہیں انہیں متعلقہ افسر چند روز بعد خود ہی کلیئر کر دیتے ہیں،ماڈل تھانوں میں سٹاف کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ، تھانہ پیپلز کالونی فیصل آباد میں خستہ حال کمرے میں گندے فرش پر چٹائیاں بچھائی ہوئی تھیں جن پر بیٹھ کر سٹاف کام کر رہا تھا۔ماڈل تھانہ مظفر گڑھ سٹی کے ایک مہینہ پہلے لکھے ہوئے انسپکشن نوٹ سے انکشاف ہواکہ اس کے مال خانے اور متفرق خانے کو پہلے وزٹ کیا گیا تھا لیکن ابھی بھی وہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے جو پہلے تھی۔

ریاض: پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے بُری خبر آ گئی

ریاض (قدرت روزنامہ) ہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا رُخ کرتے ہیں۔ ہر سال عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں میں پاکستانی سرفہرست ہوتے ہیں۔ گزشتہ عمرہ سیزن کے دوران بھی 16 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے عمرہ کیا۔رواں عمرہ سیزن کے دوران بھی لاکھوں پاکستانی عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ تاہم سعودی حکومت کی جانب سے عمرہ کے خواہش مندوں کے لیے بُری خبر سُنا دی گئی ہے۔

ایک سعودی اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی مملکت میں عمرہ ویزہ فیس میں 5 گُنا اضافہ کر دیا ہے۔ ماضی میں پاکستانیوں کو عمرہ فیس کی مد میں صرف 6700 روپے ادا کرنا ہوتے تھے، تاہم اب 5 گُنا اضافے کے بعد اُنہیں عمرہ کی ویزہ فیس 33 ہزار 600 روپے ادا کرنا ہو گی۔

جس کے باعث اب پاکستانیوں کو عمرہ پیکیج پہلے کے مقابلے میں 25 ہزار روپے سے زائد مہنگا پڑے گا۔واضح رہے کہ سعودی سرکاری گزٹ اُم القریٰ میں درج تفصیلات کے مطابق سنگل انٹری ویزے پر 300 ریال فیس وصول کی جائے گی، اس ویزے پر آنے والا سعودی عرب میں ایک ماہ تک قیام کر سکتا ہے۔

چاہے یہ سنگل انٹری ویزہ، عمرہ، سیاحت، کاروبار یا عزیز و اقارب سے ملاقات کسی بھی مقصد کے لیے لیے گیا ہو۔ ملٹی پل ویزہ کی فیس بھی 300ریال ہے تاہم اس میں ایک بار قیام کی مُدت 3 ماہ ہو گی اور اسے ایک سال میں کئی بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس ویزے کے اجراء کے بعد اسے تین ماہ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حج ویزے کی فیس 300 ریال ہے، یہ ویزہ صرف حج سیزن کے لیے ہی کارآمد ہو گا۔ جبکہ فضائی، بحری یازمینی راستے سے سعودی عرب کے ٹرانزٹ ویزے کی فیس بھی 300 ریال مقرر کی گئی۔ اس ٹرانزٹ ویزے کی صورت میں سعودی سرزمین پر 96 گھنٹے یعنی چار روز تک قیام کیا جا سکتا ہے۔

علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا ‘جھوٹا’ الزام لگانے والی خاتون کی معذرت

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) گلوکار و اداکار علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی ایک لڑکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گلوکار سے معافی مانگتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے علی ظفر پر جھوٹا الزام ایک غلط فہمی کی بنیاد پر لگایا۔

صوفی نامی صارف نے ٹوئٹر پر متعدد ٹوئٹس میں گزشتہ سال علی ظفر پر الزام لگانے کی وجہ بتائی جبکہ اب ان سے معذرت بھی کرلی۔

صوفی نے اپنی پہلی ٹوئٹ میں گزشتہ سال گلوکار کے خلاف کی جانے والی ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس پر انہوں نے لکھا کہ 'گزشتہ سال میں نے یہ ٹوئٹ شیئر کی تھی، جب ایک نوجوان لڑکی نے بتایا تھا کہ علی ظفر نے اسے ہراساں کیا، لیکن میں نے ایک روز بعد ہی یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ اس لڑکی نے مجھے جو کچھ بھی بتایا وہ کہانی پوری طرح درست نہیں تھی'۔

صوفی نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں بتایا کہ 'میں خود جنسی ہراسانی کی شکار رہ چکی ہوں، می ٹو مہم کو پوری طرح سے سپورٹ کرتی ہوں اور ان خواتین پر بھی یقین کرتی ہوں جو اس کا شکار ہوئیں، لیکن کبھی کبھار ہم غلط بھروسہ بھی کرلیتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ اس غیر جانبدار رائے سے علی ظفر کو کتنا نقصان پہنچا'۔

انہوں نے علی ظفر سے معافی مانگتے ہوئے لکھا کہ 'علی ظفر مجھے معاف کردیں کہ میں نے ایک جھوٹ پر اس لیے یقین کیا کیوں کہ اسے بولنے والی ایک نوجوان لڑکی تھی، بھلے ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی لیکن اس کے باوجود لوگ اسے آپ پر تنقید کرنے اور آپ کو تکلیف پہنچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں، مجھے کافی پہلے ہی یہ سب بتادینا چاہیے تھا لیکن میں انٹرنیٹ پر تنقید کرنے والوں سے ڈرتی تھی'۔

دوسری جانب علی ظفر نے صوفی کی ان ٹوئٹس کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ وہ ان کی معافی قبول کرتے ہیں۔

گلوکار و اداکار نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ 'صوفی، اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور سب کے سامنے معافی مانگنے کے لیے ہمت اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے، تم بہادر اور ہمت والی ہو اور تمہارے بارے میں یہی یاد رکھا جانا چاہیے، میں دعا کرتا ہوں کہ تمہیں اچھی صحت کے ساتھ خوشیاں ملیں'۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال گلوکارہ میشا شفیع نے پاکستان میں می ٹو مہم کا آغاز کرتے ہوئے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

میشا نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں علی ظفر پر الزام لگاتے ہوئے لکھا تھا کہ علی ظفر نے ایک جیمنگ سیشن کے دوران انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور یہ واقع اس وقت کا ہے جب وہ 2 بچوں کی ماں بن چکی تھی۔

میشا کے الزام لگانے کے بعد علی ظفر نے فوری طور پر ان الزامات کو بےبنیاد قرار دیا جبکہ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 'میں میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے ہراساں کیے جانے کے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں، میں اس معاملے کو عدالت میں لے جاﺅں گا اور اس کا سامنا پروفیشنلی اور سنجیدہ انداز سے کروں گا، سوشل میڈیا پر جوابی الزامات عائد کرکے اس تحریک، اپنے خاندان، اپنی انڈسٹری اور اپنے مداحوں کی تحقیر نہیں کروں گا۔ میں سچ پر یقین رکھنے والا ہوں جو ہمیشہ غالب ثابت ہوتا ہے'۔

میشا کی جانب سے الزامات کے بعد بہت سی اور خواتین نے بھی سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف آواز اٹھائی اور بتایا کہ علی ظفر انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کرچکے ہیں۔

تاہم علی ظفر نے اس حوالے سے کہا کہ انہیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پھنسایا جارہا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے علی ظفر اور میشا شفیع کا مقدمہ زیر سماعت ہے جس میں اب تک علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے 12 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جاچکے ہیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے گواہوں نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا، اب عدالت نے میشا شفیع اور ان کے گواہوں کو 7 اکتوبر کر طلب کیا ہے۔

امرود کے پتوں کو 20منٹ تک پانی میں پکائیں اور پھر وہ پانی استعمال کریں۔۔کمال خود دیکھیں

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اگر آپ کے بال گر رہے ہیں تو یہ پھل استعمال کر یں اور حیران کن نتائج حاصل کریںمردو خواتین اپنے گرتے بالوں کی وجہ سے یکساں طور پر پریشان ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما بڑھانے اور گرنے سے روکنے کیلئے ادویات کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے جس کا سائیڈ ایفکٹ ہوتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں کے باقاعدہ استعمال سے آپ کے بال گرنا رک جائیں گے اورساتھ ہی نئے بال بھی اگنے لگیں گے۔ان میں موجود وٹامن بی آپ کے بالوں کیلئے نہایت مفید ہے۔امرود کے کافی زیادہ پتے لیکر انہیں پانی میں 20منٹ تک ابالیں ،پانی کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اس پانی کو سر میں لگا کر چند گھنٹو ں کیلئے چھوڑ دیں ۔نارمل پانی سے دھولیں ،رات کو سونے سے پہلے امرود کے پانی کو سر بھی لگائیں اور اس سے مساج کرنے کے بعد سر پر لگارہنے دیں اور سوجائیں صبح اٹھ کر سر کو نارمل پانی سے دھوئیں ۔چند ہی دن میں آپ دیکھیں گے کہ بال گرنا بند ہو گئے ہیں اور نئے با ل بھی اگنے لگے ہیں۔

سعودی عرب سے تیل کی فراہمی میں کمی، مشرق وسطی میں کشیدگی کے بڑھنے کی باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا

ریاض، دبئی(قدرت روزنامہ) سعودی عرب سے تیل کی فراہمی میں کمی آنے اور مشرق وسطی میں کشیدگی کے بڑھنے کی باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ برینٹ کروڈ فیوچرز میں تیل کی قیمت بڑھ کر فی بیرل 65.50 ڈالر ہوگئی۔امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ فیوچرز میں تیل کی قیمت فی بیرل 58.61 ڈالر ہوگئی۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے برآمدکار سعودی عرب کی عالمی مارکیٹ کو رواں ماہ کے آخر تک اپنی پوری پیداوار بحال کرنے کی یقین دہانی کے باوجود خریدار اور تاجر کی تشویش برقرار ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی آرامکو کے آئل پروسیسنگ پلانٹ پر گزشتہ ہفتے حملہ کیا گیا تھا۔حملے کی وجہ سے پلانٹ کا کچھ حصہ متاثر ہوا تھا جس کے بعد اسے بند کردیا گیا تھا۔ سنگاپور کے توانائی کے امور کی مہارت رکھنے والے وریندرا چوہان کا کہنا تھا کہ ‘فنڈ برادری حملے کو اس مفروضے پر بھلا چکی تھی کہ سپلائی فوری بحال ہوجائے گی تاہم حقیقت اس سے مختلف نظر آئی’۔حملے کے بعد مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، پینٹاگون نے خلیج میں اضافے فوج تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے تاکہ سعودی عرب کی فضائی اور میزائل ڈیفنس کو مضبوط کیا جاسکی’۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو ‘مزاحمت اور دفاع’ کے لیے تعینات کیا ہے اور واشنگٹن ایران سے جنگ نہیں چاہتا۔امریکا کی ریاست ٹیکساس کے ریفائنرئز پر آنے والے طوفان کا اثر کم ہوا ہے اور ایگزون موبل کورپوریشن اور والیرو کورپوریشن نے اپنی کروڈ پروسیسنگ یونٹس کو گزشتہ روز بحال کردیا ہے۔