’’اب کوئی مائی کا لال پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست دے کر دکھائے۔۔۔۔‘‘ مخالف ٹیم کو دھول چٹا دینے والا پاکستان کو ایک اور شعیب اختر مل گیا

پورٹ آف سپین (قدرت روزنامہ) پاکستان کے نوجوان فاسٹ باﺅلر محمد حسنین نے کیریبین پریمیر لیگ (سی پی ایل) کے اپنے پہلے ہی میچ میں دھوم مچا دی اور عمدہ کارکردگی کے ذریعے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔تفصیلات کے مطابق19سالہ محمد حسنین سی پی ایل میں ٹرنباگو نائٹ رائیڈرز کی نمائندگی کر رہے ہیں جس کا مقابلہ سینٹ کٹس اینڈ نیویس پیٹریاٹس سے ہوا جس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمد حسنین نے 36رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جن میں ہم وطن سینئر بلے باز محمد حفیظ کی وکٹ بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا چوتھا ایڈیشن جیتنے والی فرنچائز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے محمد حسنین کو دریافت کیا اور انہیں ٹیم میں جگہ دی جنہوں نے اپنی کارکردگی کی بدولت آئی سی سی ورلڈکپ 2019 ءکے لیے قومی سکواڈ میں بھی جگہ بنائی تاہم وہ میگا ایونٹ کا ایک میچ بھی نہیں کھیل سکے تھے۔محمد حسنین اب تک5ون ڈے انٹر نیشنل اور ایک ٹی ٹونٹی انٹر نیشنل میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کے ہمراہ قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے پریس بریفنگ دی۔اس دوران مصباح الحق نے پی سی بی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا اور مجھے 2 اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ میں جو کچھ بھی ہوں، میں نے بطور کرکٹر جو بھی حاصل کیا وہ پاکستان کے نام کے بغیر ممکن نہیں تھا،

جو بھی کرکٹ کھیلی اور عزت ملی اگر اس سے پاکستان کا نام ہٹا دیں تو کچھ نہیں ہے، لہٰذا میں اس ملک کا اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ہیڈکوچ اور چیف سیلکٹر کی ذمہ داریوں پر ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے، تاہم جب اختیار آتا ہے تو وہ آپ کا امتحان ہوتا ہے جسے ایمانداری سے پورا کرنا ہوتا ہے لیکن یہ آسان نہیں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ میں پوری ایمانداری اور طاقت سے اپنا کردار ادا کروں اور پاکستان کرکٹ کی بہتری، اس کی ترقی، پیشہ وارانہ صلاحیت اور نظام کے لیے کام کروں۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جس کا وسیم خان اور مصباح الحق نے جواب دیا۔وسیم خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو سلیکشن کمیٹی پہلے تھی وہ ختم ہوگئی لیکن جو 6 ہیڈ کوچز تھے وہ چیف سلیکٹر کے ساتھ کام کریں گے کیونکہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں تمام چیزیں دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *