’’ ہر چیز کو بِدعت مت بناؤ، غمِ حسینؑ میں رونا سنتِ رسولﷺہے۔۔۔ ‘‘ جب فرشتہ حضور ﷺ کو امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دینے آیا تو آقا کریم نے اُس وقت کیاکِیا؟ مولانا طارق جمیل کا خوبصورت خطاب

لاہور(قدرت روزنامہ)معروف عالم دین مولانا طارق جمیل جہاں اسلامی حلقوں میں مفاہمت ے لیے کوشاں رہتے ہیں وہیں وہ تبلیغی کاموں اور درس و بیانات دینے بھی مصروف نظر آتے ہیں ۔ مولانا طارق جمیل محرم الحرام کی فضیلت بیان کرتے ہوۓ کہا کہ ” 10 محرم الحرام ایک داستان ہی نہیں بلکہ ایک سبق ہے یہ قربانی کی لازوال مثال ہے، لوگ شہید ہو کر عزت پاتے ہیں لیکن میرے مطابق حسین ؑ نے شہید ہو کر شہادت کو عزت بخشی ہے ۔ لوگ قربانی دے کر بڑا بنتے ہیں لیکن حسینؑ نے خود قربان ہوکر قربانی کوبڑا بنادیا ۔لوگ اللہ کی راہ میں لٹ کر ، پٹ کر کامیابی کے زینے حاصل کرتے ہیں لیکن میرے حسینؑ نے اللہ کی راہ میں لٹ کر ، پٹ کر ، مٹ کر کامیابی کو عزت کا مفہوم پہنا دیا اور عزت کا لباس پہنا دیا ۔ میرے تو پیارے نبی ؐ نے خود کہا کہ ” امام حسین ؑ اور امام حسنؑ جنت کے نوجوان سردار ہیں”۔ جنت تو پلےت ہی بہت خوبصورت ہے لیکن اللہ حسن ؑ اور حسینؑ کو سردار بناکر جنت کو اور خوب صورتی بخش دیگا ۔ اللہ تعالی فرماۓ گا ” اے جنت ! میں نے تمھیں حسنؑ اور حسینؑ کے اضافے سے اور زیادہ خوبصورت بنا دیا ۔ شہادت کو حسینؑ نے خوبصورت بنایا ، قربانی کو آل رسول ؐ نے خوبصورت بنایا۔ کامیابی کو آل رسولؐ نے ، مفہوم پہنایا ، اللہ کی راہ میں لٹ کر جینا حسین ؑ نے سکھایا۔اللہ کو پالینے کے لیے کہاں تک جایا جاسکتا ہے، کربلا ایک پیغام ہے ۔ حسین ؑ پاک کے لیے رونا بھی سنت ہے ۔ایک مرتبہ آپؐ نے ام سلمہ سے فرمایا ” ام سلمہؒ ! آج ایک فرشتہ ملنے آرہا ہے ۔ بہت خاص ہے کسی کو بھی اندر مت آنے دینا۔ راستے میں ام سلمہؒ کھڑی ہو گئیں ۔ اسی اثنا ء میں امام حسین ؑ چھوٹے بچے گھر آگئے اور ام سلمہ ٰ ؒ نے دروازے پر روک لیا اور وہ رونے لگے جب وہ رونے لگے تو ام سلمہٰ ؒ نے چھوڑ دیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد میرے نبی ؐ کی اندر سے زور زور سے رونے کی آواز آئی اور ام سلمہٰ سے رہا نہ گیا اور بھاگتی ہوئی اندر پہنچیں ، دیکھا کہ آپﷺ نے امام حسین ؑ کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے اور رو رہے ہیں ۔ ام سلمہٰؒ کے سوال پر آپﷺ نے فرمایا کہ ” سلمہٰؒ جو فرشتہ آج ابھی آیا تھا وہ بتا رہا تھا کہ آپ کی امت ، آپکے اس نواسے مبارک کو قتل کردیگی اور جہاں انکا خون گرے گا وہ مٹی بھی اس فرشتے نے مجھے دکھائی ۔ ابھی حسین ؑ کی شہادت بھی نہ ہوئی تھی کہ رویا جا رہا تھا تو ہم لوگ تو امام حسینؑ کی شہادت پر روتے ہیں اور دنیا قیامت کے واقعے پر روتی رہے گی ۔ ہر چیز کوبدعت مت بناؤ ۔ ہر سال ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسےکہ ابھی اس سال ہی امام حسینؑ کی شہادت ہوئی ہے ۔ اگر ٹیپو سلطان کی بات کروں تو اس شخص کو بھی جب انگریزوں نے شہید کیا تو پورے لشکر نے توپوں کی سلامی اور عزت و احترام کیساتھ دفن کیا جبکہ میرے نبی پاک ﷺ کے نواسے کو کفن بھی نہ دیا گیا ، جنازہ بھی نہ پڑھنے دیا گیا اور دفن بھی کرنےدیا گیا ۔ اگلےدن پتہ چلا کہ بنو اسد کے بارے میں پتہ چلا عمر بن سعد کو کہ وہ انکو دفنانے والے ہیں اور رات و رات انکو مٹی میں دبا دیا اور اوپر پانی چھوڑ دیا تاکہ پتہ نہ چلے کی حسینؑ وجود مبارک کہاں ہے۔اگلے دن بنو اسد کابوڑھا آیا اور جب پانی خشک ہوگیا تو اس نے مٹی کو اٹھا اٹھا کرسونگھنا شروع کردیا اور سونگھتے سونگھتے ایک جگہ پر رک گیا اور کہا کہ یہاں میرے حسین ؑ مدفون ہیں کیوں کہ یہاں سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ۔حسینؑ جنت کے سردار ہیں اور انکی قبر مبارک بھی جنت کی خوشبوسے لبریز ہے “۔ لعنت ہو یزد پر ، انکی ارواح پر اور انکی قبروں پر جنھوں نے آل رسول ﷺ کو اپنی تلواروں کے گھاؤ دیے ۔”مولانا طارق جمیل کا کیا کہنا تھا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *