افواہوں کا ڈراپ سین۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری اسپتالوں کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا، پاکستانی خوشی سے جھوم اُٹھے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایم ٹی آئی آرڈیننس کا مقصد پبلک سیکٹرکے اسپتالوں میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات لانا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں سرکاری اسپتالوں کی نجکاری کے حوالے سے خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام اسپتال سرکاری ہی رہیں گے اوریہ آرڈیننس ہمارے اسپتالوں کے اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں بہتر انتظامات کی بدولت ہی مریضوں کو سہولتیں ملیں گی۔

گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی پنجاب کے سرکاری میڈیکل ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری کی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت پنجاب کے کسی بھی میڈیکل ٹیچنگ اسپتال کی نجکاری کی گئی ہے اور نہ ہی کی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ سے اسپتالوں کو صرف با اختیار بنا کر مریضوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے نام پرعوام کو گمراہ کرنے کی سیاست سے گریز کرنا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر کو ایم ٹی آئی کے نام پر سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کے علاج معالجہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینگے۔

یاد رہے خیبر پختونخواہ میں رائج بدنام زمانہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ 2018ء (ایم ٹی آئی) کو دیگر صوبوں میں بھی نفاذ کیا جا رہا ہے۔ ایکٹ میں نجی سرمایہ داروں پر مشتمل ایک صوبائی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جارہا ہے۔ٹیچنگ ہسپتالوں کے معاملات چلانے کے لئے پرائیویٹ لوگوں پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے نام پر انتظامی بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ سرچ اینڈ نومینیشن کونسل میں پرائیویٹ لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو بورڈ آف گورنرز کے ممبران کے لیئے نام تجویز کریں گے۔ اس ایکٹ سے پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کے لیئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی بورڈ آف گورنرز کی صورت میں سفید ہاتھیوں کی فوج بھرتی کی جائے گی ۔

کنٹریکٹ پر سپیشلسٹ بھرتی کرنے سے پوسٹ گریجویشن کا نظام تباہی کی طرف جائے گا جس کا مظاہرہ خیبرپختونخواہ میں ہو چکا ہے۔ اداروں کی خودمختیاری کا نام پر نجکاری اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا جا رہا ہے جیسے خیبرپختونخواہ میں پچھلے 6 ماہ سے ینگ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں حالانکہ وہاں انتظامی اور مالی خود مختاری کا نظام رائج ہے۔ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد چونکہ سرکاری ہسپتال بھی فیس لے کر علاج کریں گے اس لئے سرمایہ داروں کے لئے منافعوں کا حصول یقینی بنانے کے لیے یہ صحت کارڈز بانٹے جا رہے ہیں تاکہ اس سے انشورنس کمپنی کی مدد سے پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔ ساتھ ہی ایم ٹی آئی ایکٹ سرکاری ہسپتالوں کو ’خود مختار اداروں‘ میں تبدیل کردے گا جس سے حکومتی فنڈنگ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی اور سرکاری ہسپتالوں کو اپنے ’فنڈ‘ خود سے جنریٹ کرنے پڑیں گے۔ یعنی یہ نجی اداروں میں بدل جائیں گے۔ اس سے ہسپتالوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین (ڈاکٹر، نرسز، پیرا میڈک سٹاف وغیرہ) کے مستقبل پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

اِس نام نہاد صحت انصاف کارڈ کا ایک اور پہلو پہلے سے موجود نجی ہسپتالوں کی تجوریاں بھرنا بھی ہے۔ کیونکہ بعض مستند اخباری رپورٹوں کے مطابق جہاں یہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں وہاں 60 فیصد ادائیگیاں نجی شعبے کو کی جا رہی ہیں۔ یوں بہرصورت معاملہ یہ ہے کہ صحت کا بجٹ بڑھانے‘ نئے سرکاری ہسپتال بنانے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی بجائے لوگوں کو اِس کارڈ کی بتی کے پیچھے لگا کے نجی شعبے کی طرف ہانکا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں کارڈ حاصل کرلینے والوں کے لئے بھی علاج کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔ یہ سارا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ اکثر صورتوں میں انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک قطار سے دوسری قطار اور ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھیجا جاتا رہے گا۔ نجی ہسپتال چند گھونٹ میں ہی کارڈ میں موجود ساری رقم پی جائیں گے جس کے بعد لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوائے جائیں گے۔لیکن عمران خان نے ان سب خبروں کی تردید کردی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *