بورس جانسن کو مسلمانوں کے خلاف بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔۔۔اپنی ہی پارٹی کے سکھ پارلیمنٹرین نے برطانوی وزیر اعظم کو بڑا جھٹکا دے دیا

لندن (قدرت روزنامہ) برطانوی پارلیمنٹ کے سکھ رکن تن من جیت سنگھ نے وزیراعظم بورس جانسن سے اسلامو فوبک ریمارکس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ بچپن سے انہیں بھی منفی ریمارکس کا سامنا رہا ہے، جس خاتون کو وزیراعظم جانسن نے لیٹر بکس یا بینک ڈکیت جیسی دکھنے والی کہا تھا، اس کی تکلیف وہ محسوس کرسکتے ہیں، وزیراعظم اپنے تحقیر آمیز ریمارکس کی کب معافی مانگیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم جانسن کنزروٹیو پارٹی میں اسلامو فوبیک تقاریر کی تحقیقات کرائیں۔یاد رہےبورس جانسن نے5 اگست کو ممتاز اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں مسلمان خواتین کے برقع کے حوالےسے ایک کالم لکھ کر برطانیہ میں اسلام مخالف بحث کو آگے بڑھانے کے لیے مواد فراہم کر دیا ہے۔ انہوں نے ہرچند کہ برطانیہ میں برقع پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ڈنمارک میں نافذ کیے گئے

اس قانون کا حوالہ دیا جس کے تحت وہاں پر نقاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی اور انہوں نے اگرچہ یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس نئے قانون کے حامی نہیں ہیں مگر ان کے آرٹیکل میں چونکہ برقع پہننے والی عورتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے ڈاک خانہ اور بینک ڈاکو کے انتہائی قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے جو آناً فاناً جنگل کی آگ کی طرح ملک بھر میں پھیل گئے۔ یہ صرف الفاظ کے نشتر ہی نہیں تھے۔ اس کالم کے بعد ٹیل ماما واچ ڈاگ جو نفرت پر مبنی جرائم رپورٹ کرتی ہے، کے مطابق مسلمان برقع پوش خواتین پر اس آرٹیکل کے بعد اسلام فوبک حملوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے اور کم ازکم 4خواتین پر لیٹر بکس کے الفاظ کَسے گئے۔

یہ واقعات لندن اور لوٹن میں پیش آئے ہیں اور ان کا ڈائریکٹ لنک بورس جانسن کے کالم کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔ یہ صورتحال آزادی اظہار سے ماورا ہے ۔ اگلے روز سکائی نیوز کے پروگرام میں ٹوری ایم پی ندین ڈوریس کا جذبات پر کنٹرول نہ رہا۔ بورس کی حمایت میں وہ حد سے بڑھ گئیں اور استدلال پیش کیا کہ ان کی لوگوں سے اس امر پر بات چیت ہوئی ہے۔ لوگ تو اس بات کو غلط سمجھتے ہیں کہ جن خواتین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پبلک مقامات پر سر سے پاوں تک ڈھانپی رہیں۔ یہ ایک لبرل اور پروگریسیو سوسائٹی کی نشانی نہیں اور جب سکائی نیوز میزبان نے یہ دریافت کیا کہ جب خواتین ایسا کسی زور و جبر کے بغیر نہیں اپنی مرضی سے cover up کریں تو پھر؟ اس پر یہ تبصرہ کیا کہ ویل، بورس نے اپنے آرٹیکل میں کہا ہے کہ خواتین کو اس حوالےسے انتخاب کرنے کا حق ہونا چاہے ۔ پھر میزبان نے دریافت کیا کہ کیا

انہوں نے برقع کرنے والی تمام خواتین سے یہ سوال پوچھا تھا ؟ اور کیا انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ ان کے پاس برقع پہننے کے سوا کوئی چوائس نہیں تھی؟ تو رکن پارلیمنٹ سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو میزبان کی مداخلت کو کہ یہ فیئرلی سٹو پیڈ سوال ہے، کہہ دیا۔ یہ بات بھی پھیلائی جارہی ہے کہ مسلمان خواتین جن پر جسمانی تشدد ہوتا ہے وہ اپنے زخم چھپانے کے نقاب پہنتی ہیں۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ غالبا” اسی صورت حال کا ادراک کرکے ہی بورس جانسن پر قبل ازیں وزیراعظم اور ان کی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے معذرت کے لیے دباؤ بڑھایا اور مسلمان کمیونٹی سے معافی مانگنے پر زور دیا مگر غالباً سیاسی طاقت کے گھمنڈ میں موصوف اپنے موقف پر ڈٹے رہے جب کہ برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کے کوڈ آف کنڈکٹ میں یہ شامل ہے کہ پارٹی ممبران اپنے طرزعمل سے معاشرے میں احترام اور برداشت کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی کریں گے

لیکن بورس جانسن ایک عام ممبر ہی نہیں ہیں سیکرٹری خارجہ کے اہم عہدے پر فائز رہے اور پارٹی اور ملک کے کلیدی عہدوں کے امیدوار ہیں۔ ان جیسی سینئرترین شخصیت کی طرف سے ایسے طرزعمل پر ملک بھر کے مسلمان ہی نہیں ہر سطح پر بڑے پیمانے پر ایک گویا صدمے کی کیفیت طاری ہے۔ باشعور طبقہ برملا یہ کہہ رہا ہے کہ ان کی سطح کے لیڈر کا یہ کہنا کہ مسلمان خواتین جو برقع پہنتی ہیں وہ لیٹر بکس دکھائی دیتی ہیں اور ان کو بنک لوٹنے والوں سے موازنہ کرنا اس طرح کی بات کرکے انہوں نے پردہ پوش مسلمان خواتین کے لیے کئی طرح کے مسائل کھڑے کردیئے ہیں اور ان کے ریمارکس نسل پرستی پھیلانے میں ممدومعاون ثابت ہوں گے۔ کنزرویٹو مسلم فورم کے چیئر محمد امین نے اسی تناظر میں ان ریمارکس کو نہایت بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے انتہائی دائیں بازو کے عناصر کو تقویت مل سکتی ہے۔ اب یہ اچھا ہے کہ خود ان کی پارٹی نے ایک انضباطی کمیٹی قائم کردی ہے جو ان کے ایک حالیہ کالم کے متنازع مندرجات پر غور کرے گی جس میں خواتین جو نقاب اوڑھتی ہیں پر متنازع کامنٹس کیے گئے جبکہ مسلم کونسل آف بریٹن نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ برقع سے متعلق انکوائری کو وائٹ واش نہ ہونے دیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ بورس جانسن نے اپنی پارٹی کے انتہائی دائیں بازو کے ووٹروں کی خوشنودی کے لیے مبینہ طور پر یہ ریس کارڈ کھیلا ہے۔ نائجل فراج کی ان کی حمایت سے بھی بات واضح ہوجاتی ہے ۔

اسی طرح ملک بریگزٹ مخالف اور حمایتی دو دھڑوں میں مزید تقسیم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اس سارے بریگزٹ کھیل مسلمان جو اقلیتی طبقے سے متعلق ہیں۔اور 9/11اور داعش کی کارروائیوں میں بعض برطانوی مسلمان نوجوانوں کی شمولیت اور برطانیہ میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں ان کے ملوث ہونے سے پہلے سے ہی دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں اور پھر نسل پرست عناصر جو ویسے ہی ہر معاشرہ میں سرگرم عمل رہتے ہیں اور برطانیہ میں بھی کئی دہائیوں سے مختلف ناموں سے نسل پرست متحرک ہیں۔ تاہم برطانوی لوگوں کا عمومی مزاج کثیر الثقافتی، کثیر المذاہب اور کثیر النسل ہم آہنگی کا سا ہے جس کے باعث نسل پرست کامیاب نہیں ہو پاتے تھے ۔ غالبا” حالیہ عرصے میں نسل پرست عناصر کے جو مائنڈماسٹرز ہیں انہوں نے اب چال بدل دی ہے وہ اب زیادہ تر بریگزٹ اور برٹشنس کے نام پر اپنے خیالات کوہوادے رہے ہیں ۔

باالفاظ دیگر جس نسل پرستی کو برطانوی ہم آہنگی اور یگانگت کے معاشرے میں پھیلانا ممکن نہیں ہوسکا تھا اب اسے بریگزٹ کے لبادہ میں ہوا دی جارہی ہے۔ اس پہلو کو گہرائی اور گیرائی سے جانچنے اور سامنے لانے کی ضرورت ہے اور بورس جانسن جو اس ملک کی قیادت کے دعویدار ہیں کو ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچنا چاہیے کہ کیا وہ کہیں نادانستگی میں تو ایسے عناصر کے ایجنڈے کو تقویت تو نہیں بخش رہے ؟ جو نسلی ہم آہنگی کے خلاف ہیں اور پھر ٹوری پارٹی نے اس عرصہ میں مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جو بعض احسن اقدامات اٹھائے تھے ان کو بھی ان کے کالم سے دھچکہ لگا ہے بی بی سی کے مطابق بورس جانسن کے بیان پر شروع ہونے والا تنازع اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ڈنمارک میں نافذ کیے جانے والے قانون کے بعد برطانیہ میں اسلام مخالف رجحان کے اضافے پر بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔ یہ صورتحال یقینی طور پر خوش آئند بات نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *